بیرئیر کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم
جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی، جس میں ڈاکٹر شیریں مزاری، وکلا ایمل خان مندوخیل، زینب جنجوعہ اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے
بیرئیر کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بیرئیر ہٹانے سے متعلق مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کردی۔
جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی، جس میں ڈاکٹر شیریں مزاری، وکلا ایمل خان مندوخیل، زینب جنجوعہ اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پراسیکیوٹر راجہ نوید بھی عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے دوران وکیل زینب جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود انہیں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور مقدمے کی نقول بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے عدالت سے دونوں ملزمان کو پیش کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے بتایا کہ جیل حکام کی رپورٹس اس کے پاس موجود ہیں۔ اس موقع پر زینب جنجوعہ نے سوال اٹھایا کہ دیگر قیدیوں کو اڈیالہ جیل سے عدالت لایا جارہا ہے تو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کیوں پیش نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے دونوں پر فرد جرم عائد کردی۔
ہادی علی چٹھہ نے فرد جرم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک مقدمے کی نقول فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔
وکیل زینب جنجوعہ نے بھی مؤقف اپنایا کہ نہ تو دونوں کو مقدمے کی نقول دی گئیں اور نہ ہی وکلا کو ان سے ملاقات کا موقع ملا، لہٰذا قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فرد جرم عائد نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کردی اور وکیل کو ہدایت کی کہ اگر وہ چاہیں تو عدالتی حکم کو چیلنج کرسکتی ہیں۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو بھی طلب کیا گیا ہے۔