پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل
آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک ہونے والی بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھی ہے اور حکومت مذاکرات کی کامیابی کے لیے پرامید ہے
پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل
پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان جاری مذاکرات اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بات چیت شیڈول کے مطابق آج مکمل ہونے کا امکان ہے، تاہم بعض معاملات پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات مزید دنوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک ہونے والی بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھی ہے اور حکومت مذاکرات کی کامیابی کے لیے پرامید ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد وزارت خزانہ، پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔ اس دوران آٹو پالیسی، ایندھن پر سبسڈی، گندم اور چینی کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت ختم کرنے سمیت مختلف امور پر بریفنگ دی جائے گی۔
مذاکرات میں گیس کے نرخوں اور گردشی قرضے سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ حکام کے مطابق بات چیت کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پائے گا۔
اس معاہدے کے بعد پاکستان کے دونوں جائزے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کے لیے اگلی اقساط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔
حکام کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت اور موسمیاتی فنانسنگ پروگرام کے جائزوں پر بیک وقت مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اگلی اقساط کی صورت میں مجموعی طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ملنے کی توقع ہے۔
توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے جبکہ موسمیاتی فنانسنگ پروگرام کے تیسرے جائزے پر بات چیت ہورہی ہے۔ مذاکرات کامیاب ہونے پر پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی پانچویں قسط اور موسمیاتی فنانسنگ پروگرام کی تیسری قسط جاری کی جائے گی۔
حکام کے مطابق دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان اب تک آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر 4 ارب 60 کروڑ ڈالر حاصل کرچکا ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے دو پروگراموں کا حصہ ہے، جن میں 7 ارب ڈالر کا توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کا موسمیاتی فنانسنگ پروگرام شامل ہے۔