احتجاج کی آڑ میں انتشار کی اجازت نہیں دی جائے گی،گورنر خیبرپختونخوا

آئی جی خیبرپختونخوا کو کسی افسر کی تقرری یا تبادلے سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دی اور نہ ہی چیف سیکریٹری سے کسی قسم کے فنڈز طلب کیے ہیں۔

October 8, 2026 · قومی
احتجاج کی آڑ میں انتشار کی اجازت نہیں دی جائے گی،گورنر خیبرپختونخوا

احتجاج کی آڑ میں انتشار کی اجازت نہیں دی جائے گی،گورنر خیبرپختونخوا

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت گورنر راج نافذ نہیں بلکہ ان کے بقول ایک نالائق حکومت مسلط ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اگر صدر، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے یہ سمجھیں کہ صوبے کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج ضروری ہے تو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اس حوالے سے کارروائی کی جاسکتی ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں بدامنی یا انتشار کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق وہ اپنے آئینی اختیارات اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین گورنر کو صوبائی معاملات اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق اجلاس طلب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے آئی جی خیبرپختونخوا کو کسی افسر کی تقرری یا تبادلے سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دی اور نہ ہی چیف سیکریٹری سے کسی قسم کے فنڈز طلب کیے ہیں۔

گورنر نے حالیہ اجلاس کے حوالے سے کہا کہ اس کا مقصد صوبے کے معاملات اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کرنا تھا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے بارے میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آئینی کردار سے پوری طرح واقف ہیں اور اسی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اقدامات کر رہے ہیں۔