خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی پر توجہ دی جائے،محمد علی شاہ باچا

اگر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا ماحول بننے کی بات کی جا رہی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت کی اپنی کارکردگی پر بھی عائد ہوتی ہے۔

October 8, 2026 · قومی
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی پر توجہ دی جائے،محمد علی شاہ باچا

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی پر توجہ دی جائے،محمد علی شاہ باچا

پشاور میں پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی، امن و امان، گورننس، ترقی اور کرپشن سمیت اہم مسائل موجود ہیں، لیکن صوبائی حکومت کو ان معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شاہ باچا کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ رواں ہفتے پیپلز پارٹی کی تیسری پریس کانفرنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے بعض ایسی باتیں کی گئی ہیں جن سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

انہوں نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سیاسی سرگرمیوں اور اجتماعات پر مشکلات کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب دہشت گردی کے واقعات میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ سکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکاروں کے شہید ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو صوبے کی موجودہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

محمد علی شاہ باچا نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتحال پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں نوجوانوں کو سیاسی طور پر مشتعل کیا جا رہا ہے اور معاشرے میں نفرت اور تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو نوجوانوں کے مسائل اور صوبے میں بڑھتی ہوئی بے چینی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ عوام نے موجودہ حکومت پر اعتماد کیا تھا، تاہم ان کے بقول حکومت عوام کی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے ترقیاتی کاموں، امن و امان اور گورننس کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔

محمد علی شاہ باچا نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج کے خدشات سے متعلق بیانات پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا ماحول بننے کی بات کی جا رہی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت کی اپنی کارکردگی پر بھی عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض منتخب نمائندے سیاست میں آنے کے بعد غیر معمولی طور پر امیر ہوئے، جبکہ عوام کو بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو صوبے کے دورے کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دفاتر میں بیٹھ کر انتظامی مسائل کے حل پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ اگر حکومت واقعی صوبے کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو اسے دہشت گردی، امن و امان، ترقی، گورننس اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ موجودہ صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے عوام اور نوجوانوں کو ہو رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دیگر مسائل پر اعلیٰ سطح کا اجلاس فوری طور پر طلب کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کی جا سکے۔