پاکستان اور بحرین میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا چوتھا اجلاس آئندہ سال بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوگا۔
پاکستان اور بحرین میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد: پاکستان اور بحرین نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، غذائی تحفظ اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا چوتھا اجلاس آئندہ سال بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوگا۔
دفتر خارجہ کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر 7 اور 8 اکتوبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے اسحاق ڈار سے دوطرفہ مذاکرات کیے، جبکہ صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز سے بھی ملاقاتیں کیں۔
پاکستان اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی، بحری امور، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ٹیلی مواصلات، صحت، تعلیم، افرادی قوت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اسحاق ڈار نے پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی روابط کو عوام کے لیے عملی فوائد میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے طے شدہ فیصلوں پر عمل درآمد اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے ذریعے تعاون کو آگے بڑھانے پر بھی زور دیا۔
بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں اشتراک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے بحرین کی ترقی اور خوشحالی میں پاکستانی برادری کی خدمات کو بھی سراہا۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کیے۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور بھی زیر بحث آئے۔ بحرین کے وزیر خارجہ نے حالیہ علاقائی بحرانوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا۔
اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران فلسطین، مقبوضہ جموں و کشمیر، سندھ طاس معاہدے اور افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات سے متعلق پاکستان کا مؤقف بھی پیش کیا۔