عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ادویات اور کپڑوں کی فراہمی، لاہور ہائیکورٹ نے رپورٹ مانگ لی

یہ درخواست علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں وکیل رانا مدثر عمر عدالت میں پیش ہوئے۔

October 9, 2026 · قومی
عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ادویات اور کپڑوں کی فراہمی، لاہور ہائیکورٹ نے رپورٹ مانگ لی

عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ادویات اور کپڑوں کی فراہمی، لاہور ہائیکورٹ نے رپورٹ مانگ لی

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے جیل میں قید عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ادویات، کپڑوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ مطلوبہ اشیاء کی فہرست واضح طور پر فراہم کی جائے تاکہ ان کی فراہمی سے متعلق حکم جاری کیا جا سکے۔

جسٹس عبہر گل خان نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ یہ درخواست علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں وکیل رانا مدثر عمر عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ کپڑے اور ادویات فراہم کیے گئے تھے، تاہم بعد میں یہ کہا گیا کہ کچھ نہیں دیا گیا۔ اس پر وکیل رانا مدثر عمر نے وضاحت کی کہ ان کا مؤقف تھا کہ مذکورہ اشیاء عدالتی حکم کے تحت فراہم کی گئی تھیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ادویات، کپڑے، کتابیں اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے لیے متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ نورین نیازی کو بھی ادویات اور کتابوں سمیت ضروری اشیاء فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ مطلوبہ اشیاء کی فہرست تحریری طور پر جمع کرائی جائے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 19 روز گزرنے کے باوجود ادویات اور کپڑے فراہم نہیں کیے گئے۔ جسٹس عبہر گل خان نے کہا کہ عدالت جن اشیاء کی اجازت دے گی، جیل حکام صرف وہی اندر بھجوانے دیں گے۔

وکیل نے ادویات، کپڑوں، کتابوں اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے کی استدعا بھی کی، تاہم عدالت نے کھانے پینے کی اشیاء کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے متفرق درخواستوں پر رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

سماعت کے دوران وکیل نے نظر بندی کے خلاف مرکزی درخواستوں پر بھی دلائل سننے کی استدعا کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے ادویات اور کپڑوں کی فراہمی کا معاملہ طے کیا جائے، اس کے بعد مرکزی درخواستوں پر سماعت کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے وکیل سے یہ بھی کہا کہ وہ فیصلہ کریں کہ پہلے متفرق درخواستوں پر کارروائی چاہتے ہیں یا مرکزی مقدمے پر دلائل دینا چاہتے ہیں۔

عدالت نے سماعت کے بعد علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر مزید کارروائی 12 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔