گھر بیٹھے مفت قانونی مشورے کی سہولت،سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر کا افتتاح

اب شہریوں کو بنیادی قانونی مشورے کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے یا اضافی اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

October 10, 2026 · قومی
گھر بیٹھے مفت قانونی مشورے کی سہولت،سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر کا افتتاح(فائل فوٹو)

گھر بیٹھے مفت قانونی مشورے کی سہولت،سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر کا افتتاح(فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شہریوں کو گھر بیٹھے مفت قانونی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے 1818 لیگل کال سینٹر سروس کا آغاز کر دیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ اب شہریوں کو بنیادی قانونی مشورے کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے یا اضافی اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ میں سروس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر چیف جسٹس نے وکلا کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداروں سے ملاقات بھی کی۔ اس دوران مستحق شہریوں کو مفت قانونی مشورے اور معاونت فراہم کرنے کے لیے مشترکہ طریقہ کار وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

1818 لیگل کال سینٹر کے ذریعے وکلا، سائلین اور عام شہری مقدمات کی موجودہ صورتحال، سماعت کی تاریخوں، کاز لسٹ اور عدالتی فیصلوں کی نقول کے حصول سے متعلق رہنمائی حاصل کر سکیں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے سیلز ٹیکس کے ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ ریمانڈ کے بعد کیس کا فیصلہ 45 روز کے اندر کرنا ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق اپیلٹ فورم کی جانب سے مقدمہ دوبارہ فیصلے کے لیے بھیجنے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ حکام کو غیر معینہ مدت تک کارروائی جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس معاملے میں تین رکنی بینچ نے کارپوریٹ ٹیکس سے متعلق اپیل مسترد کر دی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سماعت کے لیے جلد تاریخ مقرر کرنے کی درخواستوں پر بھی واضح کیا کہ ایسی درخواست کے ساتھ ٹھوس وجوہات پیش کرنا ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقررہ فکسیشن پالیسی کے برخلاف کسی مقدمے کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کی بریت کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سندھ کے پراسیکیوٹر کو سرزنش کی اور مزید مہلت دینے کی استدعا مسترد کر دی۔