پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یومِ ذہنی صحت منایا جا رہا ہے
ملک کی صرف 5 فیصد آبادی کو ذہنی صحت کی خدمات میسر ہیں، جبکہ تقریباً 95 فیصد افراد ان سہولتوں سے محروم ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یومِ ذہنی صحت منایا جا رہا ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یومِ ذہنی صحت منایا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد ذہنی صحت کے بارے میں شعور بیدار کرنا، اس حوالے سے پائے جانے والے منفی رویوں اور امتیازی سلوک کا خاتمہ اور متاثرہ افراد کے لیے علاج و معاونت کی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت سے متعلق نگہداشت کی ضرورت ہے، تاہم ملک کی صرف 5 فیصد آبادی کو ذہنی صحت کی خدمات میسر ہیں، جبکہ تقریباً 95 فیصد افراد ان سہولتوں سے محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ماہرینِ نفسیات کی تعداد تقریباً 0.19 ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح فی ایک لاکھ آبادی میں 7 ماہرین تک پہنچ جاتی ہے۔ ماہرین کی کمی اور علاج کی سہولتوں تک محدود رسائی ملک میں ذہنی صحت کے شعبے کے بڑے مسائل میں شامل ہیں۔
حکومت پاکستان نے یکم اکتوبر کو عالمی ادارہ صحت، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 سے 2035 کا اجرا کیا تھا۔ اس پالیسی کا مقصد ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانا اور ضرورت مند افراد تک علاج و معاونت کی سہولتیں پہنچانا ہے۔
رواں سال عالمی یومِ ذہنی صحت کا موضوع ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کے تجربات سننے اور ان کی آواز کو حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنانے پر مرکوز ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس مہم کا مقصد متاثرہ افراد کے تجربات کو پالیسی سازی، علاج اور معاونت کے نظام میں شامل کرنا ہے تاکہ ان کی ضروریات کے مطابق بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔