پاکستان کی جوہری تنصیبات کا 12 روزہ جائزہ مکمل، ایٹمی اثاثے محفوظ قرار
ماہرین نے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرنے کے ساتھ حفاظتی انتظامات کے حوالے سے متعدد اچھے طریقہ ہائے کار کی بھی نشاندہی کی۔
پاکستان کی جوہری تنصیبات کا 12 روزہ جائزہ مکمل، ایٹمی اثاثے محفوظ قرار
اسلام آباد: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین نے پاکستان میں 12 روزہ جائزہ مکمل کرنے کے بعد جوہری اثاثوں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے قائم نظام کو مضبوط قرار دیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق پاکستان میں متعلقہ تنصیبات پر حفاظتی اقدامات پر مناسب انداز میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق اس کے بین الاقوامی جسمانی تحفظ کے مشاورتی مشن نے پہلی مرتبہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت سے متعلق قانونی اور ضابطہ جاتی نظام کا جائزہ لیا۔ ماہرین نے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرنے کے ساتھ حفاظتی انتظامات کے حوالے سے متعدد اچھے طریقہ ہائے کار کی بھی نشاندہی کی۔
ایجنسی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اپنے جوہری تحفظ کے نظام کو وقتاً فوقتاً جائزوں کے ذریعے بہتر بناتا ہے۔ ملک میں تربیت اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے قائم نظام قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر جوہری تحفظ کے شعبے میں مہارت کے فروغ میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
سات رکنی عالمی ٹیم کی قیادت مراکش کے جوہری اور تابکاری تحفظ کے ادارے کے سابق سربراہ خمار مرابٹ نے کی۔ ٹیم میں چین، رومانیہ، روس اور سلوواکیہ کے ماہرین سمیت عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے دو اہلکار شامل تھے۔
An IAEA team of experts has concluded today a 12-day International Physical Protection Advisory Service (IPPAS) mission in Pakistan. The mission, conducted at the request of the Government of Pakistan, took place from 28 September to 9 October 2026. It was the first IPPAS mission… pic.twitter.com/MeQ0b41Kpl
— IAEA – International Atomic Energy Agency ⚛️ (@iaeaorg) October 9, 2026
پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے حکومت کی درخواست پر اس مشن کی میزبانی کی۔ عالمی ماہرین نے متعلقہ قومی اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن شامل تھے۔
مشن کے دوران ماہرین نے کراچی نیوکلیئر پاور جنریٹنگ اسٹیشن کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کو مرحلہ وار بند کرنے کے جاری منصوبے اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کے ذخیرے کا جائزہ لیا۔ یہ پاکستان کا پہلا ایٹمی بجلی گھر تھا، جس میں کینیڈین ساختہ ڈیوٹیریم یورینیم ری ایکٹر نے 1971 میں کام شروع کیا تھا۔ اسے 2021 میں مستقل طور پر بند کر دیا گیا۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور شعبہ جوہری تحفظ و سلامتی کی سربراہ کرین ہرویو نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پہلا مشاورتی مشن کامیابی سے مکمل ہونا جوہری تحفظ کے نظام کے قانونی، ضابطہ جاتی اور عملی پہلوؤں کو مزید بہتر بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس شعبے میں افرادی قوت کی تربیت کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔
پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ضیا حسین شاہ نے کہا کہ مشن کی میزبانی جوہری تحفظ کے مضبوط نظام کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق عالمی ماہرین کی سفارشات سے قانونی و ضابطہ جاتی ڈھانچے اور تنصیبات کی سطح پر حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا بین الاقوامی جسمانی تحفظ کا مشاورتی پروگرام 1995 میں شروع کیا گیا تھا۔ پاکستان میں مکمل ہونے والا یہ مشن اس پروگرام کے تحت دنیا بھر میں کیا جانے والا 112واں جائزہ تھا، جس کا مقصد عالمی معیارات اور بہترین طریقہ ہائے کار کی روشنی میں جوہری تحفظ کے نظام کا جائزہ لے کر بہتری کے لیے سفارشات دینا ہے۔