لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپیل خارج کر دی

اپیل دائر کرنے میں ہونے والی 2294 روز کی تاخیر کی قابلِ قبول وضاحت پیش نہیں کی گئی، جس کے باعث مرکزی اپیل بھی مقررہ مدت گزرنے پر خارج کر دی گئی۔

October 10, 2026 · قومی
لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپیل خارج کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپیل خارج کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے محمد حسن ستار اور دیگر کے معاملے میں دائر اپیل خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ غلط عدالت میں اپیل دائر کرنے کی وجہ سے ہونے والی تاخیر خودبخود معاف نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے معقول وجہ اور قانونی کارروائی میں مستعدی ثابت کرنا ضروری ہے۔

جسٹس چوہدری محمد اقبال اور جسٹس ملک اویس خالد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سوسائٹی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپیل دائر کرنے میں ہونے والی 2294 روز کی تاخیر کی قابلِ قبول وضاحت پیش نہیں کی گئی، جس کے باعث مرکزی اپیل بھی مقررہ مدت گزرنے پر خارج کر دی گئی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق محمد حسن ستار اور دیگر نے 20 ستمبر 2014 کے معاہدۂ فروخت پر عمل درآمد کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 28 ستمبر 2019 کو یک طرفہ کارروائی کے بعد دعویٰ منظور کرتے ہوئے درخواست گزاروں کے حق میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

سوسائٹی نے اس فیصلے کے خلاف 28 اکتوبر 2019 کو ڈسٹرکٹ جج ملتان کی عدالت میں اپیل دائر کی، تاہم دائرہ اختیار نہ ہونے کے باعث 5 مارچ 2026 کو اپیل واپس کر دی گئی۔ اس کے بعد سوسائٹی نے 16 اپریل 2026 کو لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ سے رجوع کرتے ہوئے تاخیر معاف کرنے کی درخواست دائر کی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ وکیل کا غلط مشورہ، غفلت یا قانون سے لاعلمی بذاتِ خود تاخیر معاف کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اپیل کنندہ کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس نے مناسب احتیاط اور مستعدی کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ قانونِ میعاد کی دفعہ 14 کے تحت غلط دائرہ اختیار رکھنے والی عدالت میں گزارا گیا وقت اسی صورت خارج کیا جا سکتا ہے جب فریق نے نیک نیتی اور مناسب احتیاط کے ساتھ کارروائی کی ہو۔ اسی طرح دفعہ 5 کے تحت تاخیر معاف کرانے کے لیے بھی معقول اور قابلِ قبول وجہ پیش کرنا ضروری ہے۔

عدالت کے مطابق صرف یہ مؤقف اختیار کرنا کافی نہیں کہ پہلے کسی دوسری عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ اپیل کنندہ کو غلط فورم اختیار کرنے کی وجوہات واضح کرنے کے ساتھ ان کے ثبوت بھی پیش کرنا ہوتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ سوسائٹی تقریباً 2294 روز کی تاخیر کی تسلی بخش وضاحت دینے میں ناکام رہی، لہٰذا تاخیر معاف کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مرکزی اپیل بھی خارج کر دی گئی۔