وزیراعظم کا لائبہ اعجاز کی موت کا نوٹس، ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم

لائبہ اعجازکے اہل خانہ سے وفاقی وزرا کی ملاقات،مبینہ فراڈ کی تحقیقات ایف آئی اےکے سپرد

October 10, 2026 · قومی

اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کا واقعہ، وزیراعظم کا نوٹس، ملزم کی گرفتاری کے لیے ہدایات جاری۔ فائل فوٹو

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کا خواب دیکھنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایت کردی ہے۔ اہل خانہ کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بھی کارروائی شروع کردی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ملزم کی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق سزا دلوانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری لائبہ اعجاز کے گھر پہنچے اور ان کے والد سے تعزیت کی۔ اس موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ملاقات کے دوران لائبہ کے والد وزیر داخلہ سے گلے لگ کر رو پڑے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ واقعے میں ملوث شخص کو جلد گرفتار کیا جائے گا، رقم کی ریکوری بھی کروائیں گے اور ملزم کو سزا بھی دلوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم نے نوکری اور دیگر معاملات کے نام پر جس طرح رقم وصول کی، اس کا حساب لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور ایف آئی اے اس معاملے پر کام کر رہی ہیں اور کوشش ہے کہ ایسے جرائم میں کمی لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔

محسن نقوی نے بتایا کہ این سی سی آئی کی افرادی قوت بہت کم ہے، جسے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ جمعے کو اسلام آباد کے علاقے تھانہ رمنا کی حدود میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی طالبہ کی لاش ملی تھی، جس کی شناخت لائبہ اعجاز کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور موت کی حتمی وجہ تفتیش اور پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی۔

لائبہ کے اہل خانہ کے مطابق امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر ایک مبینہ ایجنٹ نے 70 لاکھ روپے سے زائد کا فراڈ کیا، جس کے بعد طالبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی تھیں۔

اہل خانہ کے مطابق لائبہ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی اور وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں۔

لائبہ کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ مبینہ ایجنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ کا جھانسہ دے کر ان سے لاکھوں روپے وصول کیے۔ والد نے بیٹی کا خواب پورا کرنے کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کرکے 21 لاکھ روپے ایجنٹ کو دیے، جبکہ مزید رقم کے لیے والدہ کے زیورات بھی دیے گئے۔

لائبہ کے ماموں رانا امجد کے مطابق ایجنٹ کی جانب سے فراہم کردہ ہارورڈ یونیورسٹی کے داخلہ اور اسکالرشپ خطوط سمیت دیگر دستاویزات کی تصدیق کروائی گئی تو وہ جعلی نکلیں۔ ان کے بقول فراڈ سامنے آنے کے بعد لائبہ شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئی تھیں۔

لائبہ کے اہل خانہ نے مقدمے کے اندراج کے لیے ایف آئی اے کو درخواست دے دی ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ٹیم نے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تفصیلات اور مبینہ جعلی دستاویزات حاصل کرلی ہیں، جبکہ ملزم کے خلاف فراڈ اور جعل سازی کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔