نیو کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، دو مبینہ بھتہ خور گرفتار
کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دونوں ملزمان زخمی ہوئے
نیو کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، دو مبینہ بھتہ خور گرفتار
کراچی: پاکستان رینجرز سندھ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس نے نیو کراچی میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو مبینہ بھتہ خوروں کو گرفتار کرلیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دونوں ملزمان زخمی ہوئے، جنہیں حراست میں لے لیا گیا۔
ترجمان رینجرز سندھ کے مطابق کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ گرفتار ملزمان کی شناخت محمد کاشف گجراتی اور یاسر عرف درویش کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کا تعلق مبینہ طور پر عبدالصمد کاٹھیاواڑی گروپ سے ہے، جس پر ضلع وسطی کراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کاروباری افراد اور بلڈرز کو بھتے کے لیے دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق بھتہ نہ دینے پر فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلانے کے متعدد واقعات میں بھی اس گروہ کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ کاشف گجراتی مبینہ طور پر گروہ کے لیے کاروباری مراکز کی نگرانی اور بھتہ نہ دینے والوں کے خلاف فائرنگ کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ حکام کے مطابق وہ 2023 سے اس گروہ کے لیے کام کر رہا تھا۔
ترجمان کے مطابق اپریل 2026 میں ناظم آباد میں ایک کار رینٹل کاروبار پر مبینہ طور پر بھتہ دینے سے انکار کے بعد فائرنگ کی گئی۔ اسی طرح اگست 2026 میں گرفتار ملزمان نے نیو کراچی میں گو جابا سوئٹس اور کھتری بریانی کی مبینہ طور پر ریکی کی، جس کی ویڈیوز گروہ کے سربراہ کو بھیجی گئیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں بھتہ نہ دینے پر ان کاروباری مراکز پر بھی فائرنگ کی گئی۔
رینجرز کے مطابق یاسر عرف درویش بھی 2020 سے مبینہ طور پر گروہ کے ساتھ اسٹریٹ کرائم اور بھتہ وصولی کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے متعدد کاروباری افراد کی معلومات فراہم کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے، جن سے مبینہ طور پر بھتہ وصول کیا جاتا تھا۔
ترجمان رینجرز سندھ کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ گروہ کی دیگر سرگرمیوں اور ممکنہ ساتھیوں سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکیں۔