خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے تک تمام وسائل بروئے کارلائیں گے،وفاقی حکومت
سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں، صوبائی انتظامیہ امن بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ انسداد دہشت گردی سیمینار سے وفاقی وزراء کا خطاب
اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر منعقدہ ایک اہم سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو آزادانہ سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ صوبائی حکومت گزشتہ 13 برس کے دوران امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو فعال کیوں نہیں بنایا گیا، متعدد اضلاع میں سیف سٹی کیمرے کیوں نصب نہیں کیے گئے اور پولیس کو جدید اسلحہ کیوں فراہم نہیں کیا گیا؟ جب حالات مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گئے اور شہریوں کی جانیں جانے لگیں تو مجبوری میں انتہائی قدم اٹھانا پڑا، اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا فیصلہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے افغان سرزمین کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں 20 ہزار سے زائد دہشت گرد موجود ہیں، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 6 ہزار سے زائد جنگجو بھی شامل ہیں جو وہاں محفوظ ٹھکانوں میں مقیم ہیں اور تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان نے عالمی امن کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کیا اور امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں بھی فعال سفارت کاری کی۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے اور دنیا جانتی ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔ اسحاق ڈار نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ افغان رجیم اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے، کیونکہ سرحد پار سے دہشت گرد دراندازی کر کے ہمارے جوانوں اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کا منصوبہ بھی افغان سرزمین پر بنایا گیا تھا، اور افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کو اسلحہ اور ہر قسم کی امداد فوری طور پر بند کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر افغان حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف خود کارروائی نہ کی تو ایک دن انہیں خود اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔