آسٹریلیا میں سڑک کنارے نماز پڑھنے والی پاکستانی طالبہ کو مارنے والا ڈرائیور جیل سے بچ گیا
10 سال تک ڈرائیونگ پر پابندی لگادی گئی
سامعہ ملک۔ تصویر: سوشل میڈیا
ایڈیلیڈ، ہلکریسٹ کے نارتھ ایسٹ روڈ پر نماز پڑھتی ایک پاکستانی طالبہ کو گاڑی سے ٹکر مارنے والے نوجوان ڈرائیور کو جیل کی سزا معطل کرکے دس سال کے لیے ڈرائیونگ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
20 سالہ سامعہ ملک کو 6 مئی 2025 کی رات تقریباً چار منٹ تک سڑک عبادت کرتے دیکھا گیا تھا۔ عینی شاہدین اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق 19 سالہ ایشٹن جیکب فرینڈ نے انہیں اپنی گاڑی سے ٹکر مار دی۔
فرینڈ نے غفلت سے گاڑی چلا کر موت کا سبب بننے اور جائے حادثہ سے فرار ہونے کے الزامات کا اعتراف کیا۔
عدالت میں بتایا گیا کہ وہ نشے میں نہیں تھا، رفتار کی حد سے کم پر گاڑی چلا رہا تھا اور حادثے کے وقت عقبی شیشے ر میں دیکھ رہا تھا ۔
جج نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ ہیڈلائٹس کے سامعہ کو دکھانے سے لے کر ٹکر تک تقریباً ڈھائی سیکنڈ کا وقت تھا۔ حادثے کی ازسرنو تحقیقات کرنے والے ماہر کے مطابق اس وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈرائیور تصادم سے بچنے یا رفتار کم کرنے کے قابل تھا۔
فرینڈ نے ابتدا میں سوچا کہ اس نے کنگرو کو ٹکر ماری ہے کیونکہ اس نے کسی کو نہیں دیکھا تھا اور سڑک پر لائٹس نہیں تھیں۔ اگلے دن خبریں دیکھنے کے بعد اسے حقیقت کا پتاچلا۔
ملزم نے سماعت میں معافی نامہ پڑھ کر اپنے اقدامات اور غفلت کی پوری ذمہ داری قبول کی اور سامعہ کے خاندان کو پہنچنے والے دکھ پر افسوس کا اظہار کیا۔
جج نے فرینڈ کے پچھتاوے، کم عمری، بحالی کے اچھے امکانات اور جرم کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا کو معطل کر دیا۔ انہیں ایک سال، تین ماہ اور 29 دن قید کی سزا سنائی گئی (جس میں آٹھ ماہ نان پیرول مدت شامل ہے) جسے دو سال کے لیے 500 ڈالر کے حسنِ سلوک بانڈ پر معطل کر دیا گیا۔ ساتھ ہی دس سال کے لیے ڈرائیونگ پر پابندی عائد کر دی گئی۔