نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی نے اقرار الحسن کی گرفتاری کی تردید کردی

وکیل کا ہائیکورٹ سے رجوع کا فیصلہ، تھانے نے اغوا کی درخواست وصول نہیں کی، اہلیہ

October 12, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی نے سیاسی جماعت عوام راج تحریک کے سربراہ اور اینکر پرسن اقرار الحسن کو گرفتار کرنے کی تردید کی ہے۔

این سی سی آئی اے حکام نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو آگاہ کیا ہے کہ اقرار الحسن ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کی جا رہی ہے۔

اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا تھا کہ نامعلوم افراد اتوار اور پیر کی درمیانی شب، تقریباً 3 بجے، لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو اغوا کر کے لے گئے۔

فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح کا کہنا تھا کہ ان افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں نے این سی سی آئی اے لکھا ہوا دیکھا تھا۔

بی بی سی کی لاہور میں موجود نامہ نگار ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار نے بتایا تھا کہ وہ اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر بھی گئی تھیں، تاہم انھیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ اس وقت موجود نہیں اور وہ صبح 10 بجے دفتر کھلنے کے بعد آئیں۔ ان کے مطابق، اس کے بعد لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بھی ان کی درخواست وصول نہیں کی گئی۔