این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن کو عدالت میں پیش کر دیا،4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

کراچی میں 10 اکتوبر 2026 کو مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا گیا۔ مقدمے میں پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 9، 10، 24 اور 26 اے شامل کی گئی ہیں۔

October 13, 2026 · قومی
این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن کو عدالت میں پیش کر دیا،4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن کو عدالت میں پیش کر دیا،4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے صحافی اور اینکر پرسن سید اقرار الحسن کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں لاہور سے گرفتار کرلیا۔ کراچی شرقی کی عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

دستیاب عدالتی دستاویزات کے مطابق این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی میں 10 اکتوبر 2026 کو مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا گیا۔ مقدمے میں پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 9، 10، 24 اور 26 اے شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اقرار الحسن نے اپنے ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست، سرکاری اداروں، افسران اور عوامی شخصیات سے متعلق مبینہ طور پر جھوٹا اور گمراہ کن مواد نشر کیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق بعض مواد میں سرکاری اقدامات کو متنازع انداز میں پیش کرنے اور سزا یافتہ افراد کی تشہیر کا معاملہ بھی شامل ہے۔

این سی سی آئی اے کی دستاویزات کے مطابق ابتدائی انکوائری کے بعد اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کو لاہور سے گرفتار کیا گیا۔ کارروائی کے دوران چار آئی فونز اور ایک آئی پیڈ تحویل میں لیے گئے، جنہیں ڈیجیٹل فرانزک جانچ کے لیے قبضے میں لیا گیا۔

ابتدائی تکنیکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحویل میں لیے گئے ایک آئی فون پر اقرار الحسن سے منسوب ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس لاگ اِن تھے۔ موبائل فون کی گیلری میں متعلقہ سوشل میڈیا پوسٹس کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان شواہد کا مزید تفصیلی تکنیکی تجزیہ درکار ہے۔

13 اکتوبر کو این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر نے اقرار الحسن کو کراچی شرقی کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

تفتیشی افسر کے مطابق موبائل فونز، لیپ ٹاپ، سم کارڈز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کرنا ضروری ہے۔ حکام متعلقہ اکاؤنٹس کی تفصیلات، حذف شدہ ڈیٹا، مبینہ مواد کی تیاری اور اشاعت میں ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد کے کردار کا بھی تعین کرنا چاہتے ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد 14 روزہ ریمانڈ کی درخواست کے بجائے چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ عدالتی حکم کے مطابق اقرار الحسن کو 17 اکتوبر 2026 کو پیش رفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔