پولیس کی غفلت سے مقدمات زیر التوا، عدالتوں پر بوجھ بڑھ گیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
عدالت نے پولیس کا متعلقہ طریقہ کار اور نظام بھی 19 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس کی غفلت سے مقدمات زیر التوا، عدالتوں پر بوجھ بڑھ گیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کی غفلت کے باعث مقدمات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے زیر التوا چالان اور زیر تفتیش مقدمات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے پولیس کا متعلقہ طریقہ کار اور نظام بھی 19 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے محمد صائم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق تھانہ رائیونڈ سٹی میں 2020 میں دوہرے قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا، جس میں درخواست گزار گزشتہ چھ سال سے جیل میں قید ہے، تاہم پولیس تاحال تفتیش مکمل نہیں کرسکی اور مقدمے کی سماعت بھی اپنے اختتام تک نہیں پہنچ سکی۔
عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب پولیس بھی پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیس افسران کی غفلت اور نااہلی کے باعث عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا ہے، جس سے عدالتی نظام متاثر ہورہا ہے۔
چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ زیر التوا مقدمات اور تفتیش میں تاخیر ختم کرنے کے لیے پولیس کے پاس کیا طریقہ کار موجود ہے۔ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ مقدمے کا چالان دو سال تک زیر سماعت رہا۔
اس پر چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ ملزمان کو کب گرفتار کیا گیا اور پولیس نے انہیں پہلے گرفتار کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ کے مطابق مقدمے میں شہادتیں ریکارڈ ہونے کے مرحلے پر پولیس ایک نیا ملزم گرفتار کرلیتی ہے، جس کے باعث کارروائی میں مزید تاخیر ہوتی ہے اور چھ سال گزرنے کے باوجود مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوپاتا۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں 11 ملزمان نامزد ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جج اپنا کام کررہا ہے، لیکن پولیس کی غفلت کے باعث مقدمات آگے نہیں بڑھ پاتے۔
عدالت نے آئی جی پنجاب کو زیر التوا چالان اور زیر تفتیش مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پولیس کا متعلقہ نظام بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کے مطابق آئی جی پنجاب کی رپورٹ چیمبرز میں دیکھی جائے گی، جبکہ مقدمے کی تفتیش مکمل کرنے اور گواہوں کو پیش کرنے کے لیے بھی مہلت دی گئی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چھ سال سے جیل میں قید ہونے اور تفتیش و ٹرائل مکمل نہ ہونے کے باعث اسے ضمانت پر رہا کیا جائے۔