خیبرپختونخوا اسمبلی 6 ماہ بعد بحال ہوگی،حکومت کی واپسی میں ایک دو سال لگ سکتے ہیں،اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم کاسینیٹ میں اظہار خیال،خیبرپختونخوا کودہشت گردی کےخلاف جنگ کےلیے 800 ارب روپے ملنے کادعویٰ
فائل فوٹو
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اقدامات آئین و قانون کے مطابق کیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت صوبائی ایڈوائزری کونسل کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی 6 ماہ بعد بحال ہوجائے گی، جبکہ حکومت کی واپسی میں ایک یا دو سال لگ سکتے ہیں، اس لیے انتظار کرنا ہوگا۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیا اور کہا کہ دونوں جانب کی جماعتوں نے بھرپور کوشش کی کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے، تاہم جس رات معاہدے پر دستخط ہونا تھے، دوسری جانب سے مزید مشاورت کا کہا گیا اور وزیراعلیٰ نے انکار کردیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مصالحت اس وقت ہوتی ہے جب معاملات برابری کی بنیاد پر ہوں، لیکن ملک اور خصوصاً خیبرپختونخوا میں حالات انتہائی غلط سمت میں گئے۔ ان کے مطابق گزشتہ 13 سال کے دوران قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت خیبرپختونخوا کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ایک فیصد اضافی حصہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کو اس مد میں 800 ارب روپے دیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی، صوبے میں کون سی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) قائم کی گئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کتنے وسائل خرچ کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم بجٹ کا حصہ بنا کر ادھر ادھر خرچ کردی گئی، جبکہ اب تک صوبے میں فرانزک لیبارٹری بھی قائم نہیں کی گئی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان وزیراعظم سے ملاقات اور مذاکرات کے لیے آئے تو انہیں چار نکات بتائے گئے اور کہا گیا کہ معاملہ کابینہ میں پیش کرکے فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق کابینہ نے سوال اٹھایا کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا، جبکہ سندھ اور پنجاب میں عوام کو متحرک کرنے کے لیے صوبائی وسائل اور انفرااسٹرکچر استعمال کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ثابت کرے کہ اس نے اپنے وسائل استعمال کیے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے 13 سال سے خیبرپختونخوا میں بربادی دیکھی ہے اور کابینہ نے درست فیصلہ کیا کہ سیاسی مصالحت کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ پہلے حل کرنا ہوگا اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر اس جنگ میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے حملے اس سے پہلے کے تین سال کے مقابلے میں زیادہ ہوئے، جسے ملک برداشت نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں جنگی صورتحال ہے، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی ہے، پاکستان کو خارجہ امور کے مسائل درپیش ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
نائب وزیراعظم کے مطابق کابینہ نے مولانا فضل الرحمان کو جواب دینے کے لیے چار نکات پیش کیے تھے۔ ان میں وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنا، پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کی جانب سے دہشت گردی کی مذمت، وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان اور مخصوص اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ شامل تھا۔ تاہم ان کے بقول کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی حالیہ تقریریں سننے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ لوگوں کو پاکستان کے خلاف اکسایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ سیاسی مصالحت سے آگے نکل چکا ہے اور پہلے مل کر دہشت گردی کو شکست دینا ہوگی۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کا ترقیاتی بجٹ 800 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے اور این ایف سی کے تحت ایک فیصد اضافی حصہ بھی مسلسل مل رہا ہے، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کچھ نہیں کرسکی۔
انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے 12 سے 14 سال جیل میں گزارے اور دعا کی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی جیل سے باہر آجائیں، تاہم یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی ایک شخص کے نہ ہونے پر پاکستان کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات اور جی ایچ کیو پر حملے نہیں ہونے چاہیے تھے اور کوئی ملک ایسے حملوں کی اجازت نہیں دے سکتا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جو کچھ ہوا، آئین و قانون کے مطابق ہوا ہے اور ہر معاملے کی مکمل تسلی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دو صوبے جل رہے ہیں جبکہ لوگ تماشا دیکھ رہے ہیں، اس لیے ہوش کے ناخن لینے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لیے ایڈوائزری کونسل میں زیادہ تر ایسے افراد شامل کیے گئے ہیں جن کا سیاسی پس منظر نہیں، تاکہ پیشہ ور افراد کے ذریعے صوبے کے مسائل حل کیے جاسکیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے یہ کونسل گورنر کی معاونت کے لیے قائم کی ہے اور اسے مکمل حمایت فراہم کی جائے گی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی 6 ماہ بعد بحال ہوجائے گی، جبکہ حکومت کی واپسی میں ایک یا دو سال لگ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک زمینی حقائق درست نہیں ہوتے اور رقم عوام پر خرچ نہیں ہوتی، انتظار کرنا ہوگا۔
سینیٹ کا اجلاس کل شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔