سی پی این ای کا خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اخبارات کے بقایاجات کی ادائیگی کا خیرمقدم
صوبائی مشیر اطلاعات ثمر بلور کا خصوصی شکریہ,امید ہے باقی ماندہ ادائیگیوں کے لیے بھی اسی تندہی کے ساتھ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
فائل فوٹو
پشاور: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اخبارات کے سالہا سال سے واجب الادا بقایاجات کی مد میں 40 کروڑ روپے کی پہلی قسط جاری کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
سی پی این ای نے اس اقدام کو صوبے کی اخباری صنعت کے استحکام، بقا اور فروغ کے لیے ایک مثبت اور اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔سی پی این ای کے مطابق، اخبارات کے بقایاجات کی وصولی کے لیے کونسل نے 2023 میں پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس طویل قانونی جدوجہد کے نتیجے میں صوبائی حکومت نے واجبات کی ادائیگی کے لیے اقدامات کیے، جس کے تحت محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے 40 کروڑ روپے کی پہلی قسط محکمہ اطلاعات کے اکائونٹ میں جمع کروا دی ہے۔
سی پی این ای نے بتایا کہ بقایاجات کی مد میں 44 کروڑ روپے کی دوسری قسط کی منظوری بھی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں دی جا چکی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ اطلاعات متعلقہ صوبائی محکموں کے ساتھ حسابات کی جانچ پڑتال اور ضروری کارروائی میں مصروف ہے، جبکہ دوسری قسط کے اجرا کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔ توقع ہے کہ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد دوسری قسط بھی جلد جاری کر دی جائے گی۔
سی پی این ای نے صوبائی مشیر اطلاعات ثمر بلور کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی واضح اور فوری ہدایات کے باعث اخبارات کے بقایاجات کی پہلی قسط کی ادائیگی ممکن ہوئی۔ کونسل نے اس امید کا اظہار کیا کہ بقایاجات کی باقی ماندہ ادائیگیوں کے لیے بھی اسی جذبے اور تندہی کے ساتھ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
سی پی این ای نے سیکرٹری اطلاعات بختیار خان اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقاتِ عامہ انصار اللہ خلجی کی ہمدردانہ کاوشوں اور تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں اخباری صنعت کو درپیش مالی مشکلات کے حل میں اہمیت کی حامل ہیں۔
سی پی این ای کی جانب سے اس مقدمے کی پیروی ممتاز قانون دان شاہد نسیم ایڈووکیٹ اور احسن مسعود ایڈووکیٹ نے کی۔ دونوں وکلا نے پشاور ہائی کورٹ میں موثر انداز میں اخبارات کو طویل عرصے سے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث درپیش سنگین مالی مسائل اور اخباری صنعت پر اس کے منفی اثرات کو اجاگر کیا۔
سی پی این ای نے اس امید کا اظہار کیا کہ بقایاجات کی ادائیگی کا یہ عمل جلد مکمل ہوگا، جس سے خیبر پختونخوا میں اخبارات کو درپیش مالی مشکلات میں کمی آئے گی اور آزاد، ذمہ دار اور معیاری صحافت کے فروغ میں مدد ملے گی۔