پاکستان امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہا ہے،وزیر خزانہ
حکومت عالمی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
پاکستان امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہا ہے،وزیر خزانہ
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے امداد پر انحصار کم کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عالمی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان خلیجی ممالک، امریکا اور چین کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے عالمی شراکت داروں کی جانب سے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی توجہ ایسے معاشی روابط پر ہے جن سے طویل مدتی فوائد حاصل کیے جاسکیں۔
محمد اورنگزیب نے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال ملک کی معاشی شرح نمو 4 فیصد یا اس سے زیادہ رہ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر رہی تھیں، جبکہ رواں مالی سال یہ رقم 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق خلیجی ممالک پاکستان کے لیے تجارت اور ترسیلات زر کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے، جبکہ چین ایک دیرینہ شراکت دار ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ملکی معیشت کے لیے اہم منصوبہ ہے۔
وفاقی وزیر نے سی پیک کے مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں سڑکوں، بندرگاہوں اور بجلی گھروں سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ دی گئی تھی۔ اب دوسرے مرحلے میں موجودہ انفرااسٹرکچر سے معاشی فوائد حاصل کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی معاشی سمت کا بنیادی مقصد امداد پر انحصار کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی اقتصادی شراکت داری کے ذریعے ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔