پشاور اسکول سانحہ، 35 بچوں اور خاتون ٹیچر کی ہلاکت کا مقدمہ درج
اسکول کی اراضی 16 مرلے پر مشتمل ہے، جو وحید اور جاوید کی ملکیت ہے۔ یہ زمین 2024 میں لیز پر حاصل کی گئی تھی،
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں اسکول کی چھتیں گرنے سے بچوں اور خاتون ٹیچر کی ہلاکتوں اور 52 افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کا مقدمہ تھانہ آغہ میر جانی شاہ میں درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق اسکول کی عمارت کی تعمیر میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل استعمال کیا گیا تھا، جبکہ عمارت کی خستہ حالی کے باعث وہ غیر محفوظ ہو چکی تھی۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسکول کی دیواروں اور چھتوں کی خراب حالت کے بارے میں پہلے بھی شکایات کی گئی تھیں، لیکن بچوں کی جانب سے نشاندہی کے باوجود اسکول انتظامیہ نے مبینہ طور پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
مقدمے کے متن کے مطابق حادثے کے دوران اسکول کی دوسری منزل پر قائم نرسری کلاس اور گراؤنڈ فلور کے کمروں کی چھتیں گر گئیں۔ اس واقعے میں 35 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی، جبکہ 52 افراد زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کی اراضی 16 مرلے پر مشتمل ہے، جو وحید اور جاوید کی ملکیت ہے۔ یہ زمین 2024 میں لیز پر حاصل کی گئی تھی، جس کے بعد وہاں اسکول کی عمارت تعمیر کی گئی۔ عمارت کی تعمیر اور استعمال ہونے والے میٹریل سے متعلق تفصیلات بھی مقدمے میں شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق مقدمہ عمارت تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار، مالکان اور شیئر ہولڈرز کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں قتل بالسبب کی دفعہ 322 سمیت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 148 اور 149 شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔