گورنر خیبر پختونخوا کا دیر کالونی اسکول سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان

گرفتار اسکول مالک کے علاوہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

October 16, 2026 · قومی
گورنر خیبر پختونخوا کا دیر کالونی اسکول سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان

گورنر خیبر پختونخوا کا دیر کالونی اسکول سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان

پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی اسکول سانحے میں جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 10، 10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 3، 3 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار اسکول مالک کے علاوہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی تعزیت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کے اظہار کے لیے دیر کالونی پہنچے، جہاں انہوں نے سانحے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جن میں معصوم بچوں کی جانیں چلی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کا نقصان ناقابلِ تلافی ہے اور کسی کے بچے کو واپس نہیں لایا جا سکتا۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ان کے دکھ میں کسی حد تک شریک ہوا جا سکے۔

گورنر کے مطابق اسکول کے معاہدے اور لیز سے متعلق تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں۔ اسکولوں کو این او سی جاری کرنے کے ذمہ دار حکام کا تعین کیا جائے گا اور 15 روز کے اندر ذمہ داری کا تعین کرکے کارروائی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کا آڈٹ اور معائنہ کیا جا رہا ہے۔ نجی اسکولوں کی انسپکشن رپورٹ پانچ روز میں تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ سرکاری اسکولوں کی رپورٹ سات سے دس روز میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول کے این او سی سے متعلق ریکارڈ موجود ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ تعلیمی اداروں سے متعلق 2017 میں قانون بھی بنایا گیا تھا۔ وزارتِ قانون کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس معاملے پر 15 روز میں ضروری قانون سازی کی جائے۔

گورنر نے مزید کہا کہ سابقہ حکومت کے دور میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ جس افسر کے خلاف شواہد ملے، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات اور انسپکشن کی رپورٹس سامنے لائی جائیں گی اور کسی دوست یا رشتہ دار کو تحفظ نہیں دیا جائے گا۔