خیبرپختونخوا زخمی حالت میں ہے، 12 اضلاع مسلح افراد کے کنٹرول میں ہیں،احمد کریم کنڈی
صوبے کے 12 اضلاع میں مسلح افراد کا اثر و رسوخ ہے اور ان علاقوں کو مسلح عناصر سے خالی کرانا ضروری ہے۔
خیبرپختونخوا زخمی حالت میں ہے، 12 اضلاع مسلح افراد کے کنٹرول میں ہیں،احمد کریم کنڈی
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی اور پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کی صورتحال تشویشناک ہے اور خیبرپختونخوا اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے بقول صوبے کے 12 اضلاع میں مسلح افراد کا اثر و رسوخ ہے اور ان علاقوں کو مسلح عناصر سے خالی کرانا ضروری ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احمد کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کڑوا گھونٹ پی کر حالات کا سامنا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کارروائیوں کے ذریعے صوبے میں امن قائم کرکے اسے پاکستان تحریک انصاف کے حوالے کیا گیا تھا، جبکہ پیپلز پارٹی نے صوبے کے وسائل میں اضافہ کیا اور خیبرپختونخوا کو شناخت دلانے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کہا کہ اگر تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا گیا تو پیپلز پارٹی سامنے آکر اس کی درستگی کرے گی۔ احمد کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ جمعیت علمائے اسلام کو موقع ملا تو سرکاری زمینیں اپنے نام کی گئیں۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف یا جمعیت علمائے اسلام نے پیپلز پارٹی کے جمہوری تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
گورنر راج سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا مقصد صوبے میں امن قائم کرنا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صوبے کے 95 فیصد لوگ بھتہ ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ یہ ایک دوسرے کی تضحیک کا وقت نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے متحد ہوکر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔