پھگواڑی: کشمیر ہائی وے پرکوسٹر کی ٹکر سے پیدل شخص جاں بحق، شہریوں کا شدید احتجاج

غم و غصے میں مبتلا لواحقین نے سڑک پر پتھر پھینک کر کشمیر ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا۔ ایک گھنٹے تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں

October 18, 2026 · قومی
احتجاج کے باعث ٹریفک جام ہے، فوٹو امت

احتجاج کے باعث ٹریفک جام ہے، فوٹو امت

پھگواڑی: کشمیر ہائی وے پر علیوٹ شادی ہال کے قریب افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں مقامی رہائشی شوکت شدید زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی سے باغ جانے والی تیز رفتار کوسٹر نے بے قابو ہو کر فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والے شوکت کو زوردار سائیڈ شیشہ مارا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ شوکت سڑک پر جا گرا اور اس کے سر پر گہری اور شدید چوٹ آئی، جس کے باعث منٹوں میں ہی انتہائی زیادہ خون بہہ گیا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی صرف ۵ منٹ کے اندر سینئر صحافی و نیوز ایجنٹ شکیل عباسی نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو کال کی اور امدادی ٹیموں کو بلا لیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر شدید زخمی شوکت کو فوری طبی امداد کے لیے مری منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

واقعے کے بعد لواحقین اور مقامی افراد میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ غم و غصے میں مبتلا لواحقین نے سڑک پر پتھر پھینک کر کشمیر ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا۔ سڑک بلاک ہونے کے باعث تقریباً ایک گھنٹے تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیے، جس کے بعد روڈ کو ٹریفک کی آمدورفت کے لیے دوبارہ بحال کرا دیا گیا۔

بعد ازاں جب مرحوم شوکت کی میت ان کے گھر علیوٹ پہنچی تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی اور پورے علاقے میں کوہرام مچ گیا۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ شام ساڑھے چار بجے جامع مسجد سیدنا صدیق اکبر علیوٹ میں ادا کی گئی، جس کی امامت قاری عرفان عباسی نے کی۔ نمازِ جنازہ میں ہزاروں سوگواران نے شرکت کی اور مرحوم کو شدید آہ و بکا کے ساتھ ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

افسوسناک حادثے پر علاقے کے عوام الناس نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوسٹر ڈرائیورز کی تیز رفتاری کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا بے جا استعمال اور تیز رفتاری روزمرہ کا معمول بن چکی ہے، جس کی وجہ سے آئے دن ایسے خونی حادثات رونما ہو رہے ہیں۔

مرحوم شوکت کے ناگہانی انتقال پر علاقے کی سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات جن میں حاجی احسان عباسی، حاجی حنیف عباسی، عاصم عرفان عباسی، ماسٹر سلیم عباسی، ارشد اقبال عباسی، خالد عباسی، کامران مسعود عباسی، افتخار عباسی، عابد صدابر عباسی، فرید عباسی، قاری شفیق عباسی، قاری آصف، قاری عبدالسلام، قاری وقار، عابد عباسی، طارق عباسی، عامر اخلاق عباسی، بابو الطاف عباسی، سینئر صحافی شکیل عباسی، ہاشم عباسی، معیز عباسی، عقیل عباس، خرم عباسی، انصر عباسی، کاشف عباسی، راشد عباسی، نزاکت عباسی، قاسم عباسی، وحید عباسی، ذیشان عباسی، نعمان عباسی، مبشر عباسی، ندیم عباسی، تنویر قادری، قاری فیاض نقشبندی، قاری عابد عباسی اور دیگر افراد نے لواحقین سے تعزیت اور غمخواری کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی۔