میر رضا کیس میں متوفی کے اہلخانہ کا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ دینے کا مطالبہ

میررضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر لانے اورجے آئی ٹی بنانے کامطالبہ

October 19, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 میر رضا کیس میں متوفی کے اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ فراہم کرنے اور اسے عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔

وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے میر رضا کے اہلخانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 15 اکتوبر کو میر رضا عدالتی کمیشن نے رپورٹ جمع کرادی تھی، تاہم انہیں بتایا گیا کہ رپورٹ خاندان کو دینے اور اسے عام کرنے کا فیصلہ کابینہ کرے گی۔

جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ کس کی پشت پناہی کی وجہ سے رپورٹ صیغۂ راز میں رکھی جارہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت خود کو پولیس کی صف میں کھڑا نہ کرے۔ رپورٹ فراہم نہ کی گئی تو عدالت سے رجوع کریں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ رپورٹ اہلخانہ کو دی جائے اور عوام کے سامنے لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ خاندان کا مطالبہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا ہے، کیونکہ میر رضا قتل کیس کے حوالے سے عام شہری بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق پولیس تفتیش نہیں کررہی، جبکہ جوڈیشل کمیشن میں حقائق جاننے کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ حکومت یا تفتیشی ٹیم نے میر رضا کے اہلخانہ سے رابطہ نہیں کیا۔ عدالتی کمیشن نے پولیس کو فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن پولیس انہیں کچھ بتانے کو تیار نہیں۔ ان کے بقول پولیس اپنے ذہن میں 10 کروڑ روپے کا ہندسہ رکھے بیٹھی ہے۔

میر رضا کے والد میر حسین علی نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی کے باعث حکومت نے کمیشن بنایا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پولیس شفاف تفتیش کرنے کی اہل ہے؟ ان کا مطالبہ تھا کہ پولیس افسران پر فردِ جرم عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اس کیس کو خودکشی کا رنگ دینا چاہتی ہے۔

میر حسین علی نے کہا کہ کیس میں ثبوت تباہ کیے گئے ہیں۔ خاندان نے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر میر رضا عدالتی کمیشن کی رپورٹ فراہم کرنے اور تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق پولیس مسلسل کیس خراب کررہی ہے۔

انہوں نے سپر میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر مقصد خودکشی ثابت کرنا نہیں تو سپر میڈیکل بورڈ کیوں بنایا جارہا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر غور نہیں کیا جارہا کہ آئی کلاؤڈ تک کس نے رسائی حاصل کی۔ میر حسین علی نے خبردار کیا کہ رپورٹ کو خفیہ رکھنے سے گزشتہ دو ماہ ضائع ہوجائیں گے۔