پی ٹی آئی کی سرگرمیاں سوشل میڈیا تک محدود ہیں ، ثمر ہارون بلور

صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث ضروری اقدامات کرنا پڑے۔ حکومت پروپیگنڈے کے بجائے عملی اقدامات کرے گی، پریس کانفرنس

October 20, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور: خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ پیش آنے والے حالات سب کے سامنے ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث ضروری اقدامات کرنا پڑے۔ حکومت اب پروپیگنڈے کے بجائے حقائق اور عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کرے گی، جبکہ ملک کی سالمیت اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافی برادری نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں، اس لیے سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو درپیش مشکلات پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ جوان جس طرح سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی قربانیوں اور خدمات کو اجاگر کرنا چاہیے۔پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ لانگ مارچ کو اشتعال انگیزی کی طرف لے جایا گیا اور سیاسی مقاصد کے لیے باتوں کو پھیلایا گیا۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کی سرگرمیاں اب سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور اس کے بعض سوشل میڈیا پیجز بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔

ثمر ہارون بلور نے کہاکہ موجودہ نظام میں آنے کے بعد حکومت کی کوشش ہوگی کہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کے بجائے حقائق اور عملی کارکردگی سامنے لائی جائے۔ پشتون برادری کے حالات، روایات اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا بھی ضروری ہے۔وہ ہر ہفتے میڈیا کے سامنے پیش ہو کر حکومتی اقدامات اور اپنی ہفتہ وار کارکردگی سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گی۔

مشیر اطلاعات کے مطابق گورنر راج کے پہلے روز اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 10 اے پی سی گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ شہدا کے اہل خانہ کو 55 سے زیادہ پلاٹس دیے گئے ہیں۔پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں اور شہدا کے پیکیجز میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ پولیس کانسٹیبل کی تنخواہ دوسرے صوبوں کے مساوی ہو۔پشاور میں سیکیورٹی اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا کی ہدایت پر تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے، جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

مشیر اطلاعات نے کہاکہ گزشتہ سال صوبے میں منشیات کی اسمگلنگ بڑے پیمانے پر ہوئی، تاہم رواں سال پولیس نے 960 کلوگرام منشیات پکڑی ہیں۔صوبے میں امن و امان کی بہتری اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف پشاور کا دورہ کریں گے اور اس موقع پر اہم اعلانات متوقع ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں قائم کیے گئے اسپتالوں کی طرز پر خیبرپختونخوا میں بھی اسپتال بنانے کے منصوبے زیر غور ہیں۔ انہوں نے ضم اضلاع میں تعلیمی سہولیات کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ میران شاہ سمیت پسماندہ علاقوں کی بچیوں نے انہیں پیغامات بھیجے ہیں کہ وہاں اسکولوں کی سہولیات دستیاب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی سہولیات بہتر بنائی جائیں اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے۔صوبے میں امن و امان کی بحالی، پولیس کی استعداد کار میں اضافے، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔