بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے روک دیا
سلمان اکرم راجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد اختلافات سامنے آگئے، علی امین گنڈا پور اور دیگر کی تنقید
فائل فوٹو
اسلام آباد:چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارٹی اراکین کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے روک دیا۔
ٹیلی فونک گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پارٹی اراکین کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے روک دیا ہے، میری علی امین، شیخ وقاص اکرم، علی اصغر خان ، سلمان اکرم راجہ سے بات ہوئی ہے، پوری پارٹی متحد ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز متحد ہیں، انہوں نے کبھی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ کریں گے، مجھے ان پر فخر ہے، بانی چئیرمین کو بھی ان پر فخر ہے، ہمارے وزیراعلی سہیل آفریدی تھے، ہیں اور رہیں گے۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کے ایک دوسرے پر الزامات اور دھمکیاں
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانے کے ساتھ دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔
پی ٹی آئیکے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد اختلافات سامنے آگئے، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی نے ان کے مؤقف پر سخت تنقید کی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے اپنی پوسٹ میں کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر کے بعد علی اصغر قائم مقام صوبائی صدر ہیں۔ انہوں نے وسوسے پھیلانے والوں کو سانپ اور سنپولیے قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شکست ہوگی۔ پارٹی کے اندرونی اتفاق پر غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔
اسی اثنا میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا پارٹی گروپ میں آڈیو پیغام بھی لیک ہوا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کسی کے باپ کی نہیں ، یہاں فیصلے بانی چیئرمین نے کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی کا ہر حکم پہلے بھی من و عن مانا گیا ہے اور آئندہ بھی مانا جائے گا۔
علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی پر سانپ اور سنپولیے ہونے کے الزامات لگانا ان کا اختیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمجھ جاؤ اس بات کو، اگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہی تو سمجھانے کے طریقے ہیں ہمارے پاس۔ اگر ایک عہدہ آپ کو ہضم نہیں ہو رہا تو ہاضمے کی دوائی ہے ہمارے پاس۔
علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی ارکان نے بھی سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ مشکل ترین سیاسی حالات میں منتخب نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان پر الزامات عائد کرنا افسوس ناک ہے۔ صوبے کے نمائندے سیاسی دباؤ، مقدمات اور گرفتاریوں جیسے چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں۔
پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ صوبائی معاملات اور سیاسی فیصلوں میں پارلیمانی پارٹی کی رائے، زمینی حقائق اور منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے تمام فیصلے باہمی مشاورت، احترام اور اعتماد کے اصولوں کے تحت ہونے چاہییں۔
علی امین گنڈاپور نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج انہی کی غلطیوں اور غلط پلاننگ کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں،خان نے ان کو اختیار دیا نہ یہ اختیار استعمال کر سکے نہ ڈیلیور کر سکے۔
انہوں ںے سلمان اکرم راجہ کے تازہ ترین ٹویٹ پر بھی برہمی کا اظہار کیا، ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سلمان اکرم راجہ اپنے ٹویٹ پر معذرت کریں، یہ کیسے الزامات لگا دیے کہ رائے ہموار کی جا رہی ہے، ہم بانی چئیرمین کی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں، مجھے نہیں پتا کہ انہیں یہ سب باتیں کون فیڈ کر رہا ہے؟
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہم سلمان اکرم راجہ کو پارلیمانی کمیٹی میں بلاتے ہیں، لیکن وہ وہاں آتے ہی نہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے ٹویٹ پر معذرت کریں اور اپنے الزامات کی وضاحت دیں۔
سلمان اکرم راجہ کے ٹویٹ پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے بھی شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ سلمان اکرم راجہ کے بیان پر افسوس ہوا، حساس معاملے پر ٹویٹ سے پہلے حقائق کی مکمل تصدیق ضروری ہے، صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی نامزدگی پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی نے صوبائی صدر کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، اجلاس میں صرف مذاکرات میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کی مؤثر نمائندگی کا فیصلہ ہوا، وفاقی حکومت، اپوزیشن یا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی اجلاس کے لیے بیرسٹر گوہر کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، بیرسٹر گوہر کو اعتماد میں لے کر ان کی مشاورت سے اجلاس طے کیے گئے، ماضی کے مذاکرات میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کو مناسب مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا، ماضی میں صوبے کے مؤقف کی مؤثر ترجمانی نہ ہونے سے سیاسی نقصان اٹھانا پڑا، آئندہ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کے حقوق اور مفادات کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نامزدگی سے متعلق نہیں تھا، صوبائی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کا صوبائی صدر کی تبدیلی سے بھی کوئی تعلق نہیں، حقائق کی تصدیق کے بغیر پارٹی معاملات عوامی سطح پر اٹھانا مناسب نہیں، سلمان اکرم راجہ کو ٹویٹ سے پہلے صوبائی پارلیمانی پارٹی سے رابطہ کرنا چاہیے تھا، پارٹی معاملات میں باہمی مشاورت، اعتماد اور ذمہ دارانہ طرزعمل ناگزیر ہے، پارٹی کے اندرونی معاملات باہمی مشاورت سے حل کیے جائیں۔