ایرانی سرحد نہ کھلنے سے ایل پی جی بحران مزید شدید ہونے کا خدشہ
ایل پی جی بحران ایرانی سرحد بند ہونے سے پیدا ہوا ،ذرائع اوگرا
فائل فوٹو
اسلام آباد : ایل پی جی بحران ایرانی سرحد نہ کھلنے سے مزید شدید ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ذرائع اوگرا کے مطابق ایل پی جی بحران ایرانی سرحد بند ہونے سے پیدا ہوا اور قیمتیں سپلائی میں تعطل آنے سے بڑھیں۔
ذرائع اوگرا کے مطابق پاکستان 70 فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے، جس کا مجموعی 50 فیصد ایران سے آتا ہے۔ پاکستان ایل پی جی ایران، عراق اور عمان سے درآمد کرتا ہے، آبنائے ہرمز بند ہونے سے عمان اور عراق سے سپلائی نہیں آرہی ہے۔
اوگرا ذرائع کے مطابق ایل پی جی کی درآمد کے لیے ایرانی سرحد نہ کھلی تو بحران مزید شدید ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق انفورسمنٹ ٹیمیں دستیاب ایل پی جی کی اضافی قیمت وصولی پر کارروائی کر رہی ہیں، ملک میں سالانہ اوسط کھپت 24 سے 25 لاکھ ٹن ہے۔
ذرائع اوگرا کے مطابق ایل پی جی کے 11 اعشاریہ 8 کلوگرام کے گھریلو سلینڈر کی قیمت 3296 روپے مختص کر رکھی ہے لیکن ملک یہ دگنی قیمت سے بھی زائد میں فروخت ہو رہا ہے۔