ڈیانا نے 2 کروڑ روپے لے کر بیان بدلاپولیس ذرائع کا دعویٰ،وکیل کی تردید
مقدمے میں نامزد ملزم احمد تنویر کا تعلق ایک بااثر اور خوشحال خاندان سے ہے، جبکہ اس کے والد بڑے کنٹریکٹر ہیں۔پولیس ذرائع
ڈیانا نے 2 کروڑ روپے لے کر بیان بدلا؟پولیس ذرائع کا دعویٰ،وکیل کی تردید
لاہور: آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون نے ملزمان کے حق میں بیان دینے کے لیے مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے وصول کیے، تاہم ملزم کے وکیل نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں نامزد ملزم احمد تنویر کا تعلق ایک بااثر اور خوشحال خاندان سے ہے، جبکہ اس کے والد بڑے کنٹریکٹر ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزم کے رشتے داروں اور وکیل نے فون پر رابطوں کے ذریعے ڈیانا کو اپنا بیان تبدیل کرنے پر آمادہ کیا۔
ذرائع کے مطابق خاتون کی رضامندی کے بعد ملزم کے والد لندن سے آذربائیجان گئے۔ پولیس ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ڈیانا نے ملزمان کے حق میں بیان دینے کے عوض پاکستانی کرنسی میں 2 کروڑ روپے وصول کیے اور اس وقت دبئی میں موجود ہے۔
دوسری جانب ملزم کے وکیل صفدر شاہین نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ آذربائیجان گئے اور نہ ہی انہوں نے خاتون سے فون پر بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی خاتون کو کوئی رشوت نہیں دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ڈیانا نے اپنے پہلے بیان میں مجسٹریٹ کے سامنے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت تین ملزمان پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم بعد میں خاتون نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابتدائی بیان دباؤ میں دیا تھا۔
تاحال مبینہ طور پر رقم کی ادائیگی کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ معاملے کے تمام پہلوؤں اور فریقین کے مؤقف کی روشنی میں حقائق کا تعین متعلقہ تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔