خیبرپختونخوا میں پولیس اور انسدادِ دہشت گردی منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے جاری
دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں پولیس کی تکنیکی استعداد اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے فنڈز مختص
خیبرپختونخوا میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو مضبوط بنانے کے لیے 5 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری، رقم دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع، پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر و بحالی اور سکیورٹی اداروں کے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کی جائے گی۔
خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران دہشت گردی سے متاثرہ مخصوص اضلاع اور پولیس کے مختلف منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پولیس کے جاری منصوبوں کے بقایا فنڈز بھی جاری کیے گئے ہیں۔ صوبائی پولیس کے 9 منصوبوں کے لیے ایک ارب 3 کروڑ 68 لاکھ 75 ہزار روپے، جبکہ تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کی اسکیموں کے لیے 4 ارب 26 کروڑ 75 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
مخصوص اضلاع میں پولیس کی تکنیکی اپ گریڈیشن کے لیے ایک ارب 86 کروڑ 75 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے لیے الگ الگ ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
صوبے کی ہر تحصیل اور ٹاؤن ہیڈکوارٹر میں ماڈل پولیس اسٹیشنوں کی فزیبلٹی اسٹڈی اور تعمیر کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہنگو پولیس ٹریننگ کالج میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے، جبکہ پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر اور بحالی کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے علاقائی ہیڈکوارٹرز کی فزیبلٹی اسٹڈی اور تعمیر کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ صوبے میں پولیس کے بنیادی ڈھانچے کی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے بھی ایک کروڑ 80 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
چارسدہ کے پولیس اسٹیشن مندنی کی تعمیر کے لیے 3 کروڑ روپے، مردان میں 5 پولیس چوکیوں کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے، جبکہ صوبے میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے ضلعی نظام اور پشاور کے علاقائی ہیڈکوارٹر کی تعمیر کے لیے 60 کروڑ 48 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
پشاور پولیس لائنز کی موجودہ عمارت کی بحالی، ڈھانچے کی مرمت، تبدیلی اور توسیع کے لیے 18 کروڑ 87 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ٹانک میں پولیس لائنز کے لیے زمین کے حصول کے سلسلے میں عدالتی طور پر طے شدہ واجبات کی ادائیگی کے لیے 4 کروڑ 70 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق تمام اخراجات مقررہ طریقۂ کار اور مدت کے اندر متعلقہ سرگرمیوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو مضبوط بنانے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور اس ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے پولیس اہلکاروں کو ان کی بے پناہ قربانیوں پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔