کراچی میں صوبہ ہزارہ کے حق میں بڑا جلسہ،قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
سردار محمد یوسف،مرتضیٰ جاوید عباسی،ڈاکٹر شائستہ جدون اور دیگر رہنماؤں کا خطاب،24 قبائل کے نمائندوں سمیت ہزارہ وال کی بڑی تعداد میں شرکت
ہزارہ صوبے کے حق میں بڑا جلسہ
وفاقی وزیر مذہبی امور اور چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بااختیار بنانے کے لیے چھوٹے انتظامی صوبے بنانے کی ضرورت ہے۔ جب پاکستان بنا تو چار صوبے تھے، اب ملک کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن صوبوں کی تعداد اب بھی چار ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئین کے اندر رہتے ہوئے نئے انتظامی صوبے بنائے جائیں۔ ہمارا نعرہ صوبہ ہزارہ ہے اور پاکستان ہماری پہچان ہے، صوبہ ہزارہ ہمارا آئینی حق ہے۔
وہ اتوار کو ہزارہ قبائل مشاورتی کونسل اور صوبہ ہزارہ تحریک کے تحت قیوم آباد میں منعقدہ صوبہ ہزارہ جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسے میں 24 قبائل کے نمائندوں سمیت کراچی میں مقیم ہزارہ وال کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہزارہ وال برادری کے سینیٹر محمد طلحہ محمود، سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شائستہ جدون، چیئرمین آباد حنیف گوہر سواتی، میئر مانسہرہ شیخ شفیع اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ کراچی کے ہزارہ وال نے ثابت کر دیا ہے کہ صوبہ ہزارہ بن چکا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی سے تین مرتبہ قرارداد منظور ہو چکی ہے، جبکہ سینیٹ میں بل جمع کرایا جا چکا ہے جو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس ہے۔ ان کے مطابق کسی جماعت نے اس کی مخالفت نہیں کی، جبکہ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں نے حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2010 میں نوجوانوں نے شہادتیں دیں اور پاکستان کے لیے ہزارہ کی بڑی قربانیاں ہیں۔ پاکستان نے معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں ثابت کیا کہ وہ دشمن کا مقابلہ جرات سے کر سکتا ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دنیا نے پاکستان کو سلام کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبہ ہزارہ کے حصول کے لیے پرامن طریقے سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے کامیاب جلسے نے ثابت کر دیا ہے کہ اب صوبہ ہزارہ بنے گا۔ ہزارہ وال متحد ہیں اور محبت کرنے والی قوم ہیں، وہ کسی کے خلاف نہیں۔ کراچی میں ہزارہ وال ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے اور اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ کراچی میں عوام کا سمندر دیکھ کر حیران ہوں اور اب یقین ہو گیا ہے کہ صوبہ ہزارہ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے فلور پر ہزارہ کی خواتین ان کی عزت بن کر ان کی آواز اٹھائیں گی۔
چیئرمین آباد حنیف گوہر سواتی نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ اچانک سامنے نہیں آیا۔ دیگر صوبوں کی بات چند روز قبل محسن نقوی نے اسلام آباد میں کی، جبکہ صوبہ ہزارہ کی بنیاد پہلے سے موجود ہے۔ خیبرپختونخوا میں جمع کرائی گئی قرارداد واضح طور پر کہتی ہے کہ صوبہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ سہولتیں فراہم نہیں کرنا چاہتے۔ اگر بٹگرام کے شہری کو انصاف مل سکتا ہے تو اسے پشاور جانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی کہ صوبہ ہزارہ جلد بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ منی پاکستان کراچی میں ہزارہ وال کی اتنی بڑی تعداد کہیں اور موجود نہیں، جبکہ اس وقت جلسے کے پنڈال میں 24 قبائل شریک ہیں۔ اپنی الگ الگ ترجیحات کو ایک طرف رکھ کر بڑے ہدف کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے فنڈز ضلعی سطح تک نہیں پہنچتے بلکہ وزیراعلیٰ کی خواہش تک محدود رہتے ہیں۔ ہزارہ اور مالاکنڈ سمیت متعدد علاقوں میں بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ یہ علاقے اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سیاحت و معدنیات سے بھی مالا مال ہیں۔ ان کے مطابق یہ وسائل 79 سال سے دفن ہیں، جنہیں نکال کر عوام کی خوشحالی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مزید دو صوبے بنیں گے اور صوبوں کے قیام سے خوشحالی آئے گی۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ شہزاد اعوان نے کہا کہ ہماری پہچان پاکستان اور ہمارا نعرہ صوبہ ہزارہ ہے۔ کراچی والوں نے ریفرنڈم کر دیا ہے اور ہمارے وسائل کے فیصلے پشاور سے نہیں بلکہ ہزارہ وال خود کریں گے۔
نوابزادہ صلاح الدین نے کہا کہ صوبہ ہزارہ اب بننے جا رہا ہے اور اس کے ساتھ مزید صوبے بھی بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتیں اپنے مطالبات پیش کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں، جبکہ پاکستان میں لوگ آزادانہ طور پر مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق 2025 میں فوج نے بھارت کے دانت کھٹے کیے۔
خان محمد تنولی اور دیگر مقررین نے کہا کہ وہ زبان، قومیت یا رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی یونٹ کی بنیاد پر صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔