لاہور فضائی آلودگی میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا
خطرناک سموگ، اے کیو آئی کی سطح 285 تک جا پہنچی، کراچی پانچویں نمبر پر آگیا۔
لاہور فضائی آلودگی میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا
لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے اور شہر ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔
عالمی ادارے آئی کیو ایئر کی جاری کردہ درجہ بندی کے مطابق لاہور کا اے کیو آئی 238 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ میں صبح 6 بجے یہ سطح بڑھ کر 285 تک جا پہنچی۔ عالمی درجہ بندی میں بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی 214 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے، ویتنام کا شہر ہنوئی 188 کے ساتھ تیسرے اور عراق کا شہر بغداد 169 کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی 166 اے کیو آئی کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں 5 ویں نمبر پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں گزشتہ روز صبح 6 بجے اے کیو آئی 229 ریکارڈ کیا گیا تھا جو آج بڑھ کر 285 ہو گیا ہے، اور اس اضافے کے بعد شہر میں فضائی آلودگی کی سطح کو غیر صحت بخش قرار دے دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے جہاں شاہدرہ میں اے کیو آئی 500 ریکارڈ کیا گیا جو کہ ایک انتہائی بلند ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ واہگہ بارڈر پر 366، ملتان روڈ پر 335 اور برکی روڈ پر 306 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فضائی آلودگی میں اس خطرناک اضافے کے نتیجے میں شہریوں، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کی صحت شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آلودہ فضا میں زیادہ دیر تک رہنے کے باعث آنکھوں میں جلن، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ماہرین صحت کی جانب سے جاری کردہ عمومی ہدایات میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، کھلی فضا میں سخت جسمانی مشقت کو محدود رکھیں اور ضرورت کے وقت مناسب حفاظتی ماسک کا استعمال کریں۔ بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو اس صورتحال میں خاص احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔