پاکستان میں واٹس ایپ صارفین کے لیے ہائی سائبر الرٹ جاری

سرکاری اہلکاروں اور حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت

October 27, 2026 · قومی
پاکستان میں واٹس ایپ صارفین کے لیے ہائی سائبر الرٹ جاری

پاکستان میں واٹس ایپ صارفین کے لیے ہائی سائبر الرٹ جاری

اسلام آباد: نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے واٹس ایپ ویب، ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز اور ای میل کے ذریعے سائبر حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس انتباہ میں بالخصوص سرکاری اہلکاروں اور حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق سائبر حملہ آور سرکاری اداروں اور اہلکاروں کی نقالی کرکے ایسی مشتبہ فائلیں بھیج رہے ہیں جو ونڈوز کمپیوٹرز کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان فائلوں کو بظاہر سرکاری دستاویزات کی شکل دی جاتی ہے، جن کے ذریعے حملہ آور کمپیوٹر کا کنٹرول حاصل کرنے، پاس ورڈ چرانے اور خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

انتباہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حملہ آور واٹس ایپ ویب کے فعال سیشنز پر قبضہ کرکے صارفین کی شناخت کا غلط استعمال بھی کر سکتے ہیں، جس سے ذاتی رابطوں اور حساس گفتگو کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سائبر سکیورٹی حکام کے مطابق کسی واقف نمبر سے غیر متوقع پیغام یا فائل موصول ہونا بھی ممکنہ حملے کی علامت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح واٹس ایپ کے منسلک آلات کی فہرست میں کسی نامعلوم ڈیوائس کی موجودگی کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ایڈوائزری میں حساس معلومات سنبھالنے والے سرکاری اہلکاروں کو ونڈوز کمپیوٹرز پر واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشتبہ پیغامات، لنکس اور فائلوں کو کھولنے سے پہلے ان کی تصدیق ضرور کریں اور کسی کے ساتھ پاس ورڈ، یک وقتی تصدیقی کوڈ یا دیگر حفاظتی معلومات شیئر نہ کریں۔

حکام نے ونڈوز، انٹرنیٹ براؤزرز اور دیگر سافٹ ویئر کو تازہ ترین حالت میں رکھنے کے ساتھ واٹس ایپ کا دو مرحلوں پر مشتمل تصدیقی نظام فعال کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ مزید برآں، واٹس ایپ کی فائلیں سرکاری کمپیوٹرز میں منتقل کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اگر کسی کمپیوٹر یا ڈیوائس کے سائبر حملے کا شکار ہونے کا شبہ ہو تو اسے فوری طور پر انٹرنیٹ اور نیٹ ورک سے منقطع کرنے، متعلقہ پیغامات اور نظام کی سرگرمیوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنے اور مشتبہ فائلوں کو دوبارہ کھولنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔