کشمیر میں جمہوریت نہیں خوف کی حکمرانی ہے، محبوبہ مفتی
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت سیاسی مکالمے اور عوامی رابطوں کے بجائے سیکیورٹی اقدامات پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
کشمیر میں جمہوریت نہیں خوف کی حکمرانی ہے، محبوبہ مفتی
سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خطے میں جمہوری عمل کے بجائے پابندیوں اور خوف کے ماحول کے ذریعے حکمرانی کر رہی ہے۔
سری نگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت سیاسی مکالمے اور عوامی رابطوں کے بجائے سیکیورٹی اقدامات پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو اب بھی شک، نگرانی اور ہراسانی کا سامنا ہے، جبکہ ان کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں طویل عرصے سے فوجی موجودگی اور سیکیورٹی پابندیاں برقرار ہیں۔
سابق وزیرِ اعلیٰ نے اگست 2019 میں بھارتی آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے کشمیری عوام کے سیاسی حقوق کمزور ہوئے اور خطے میں پابندیوں کا سلسلہ مزید نمایاں ہو گیا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ احتجاج اور آزادیٔ اظہار پر قدغنوں کے ماحول کو معمول کی صورتِ حال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جموں و کشمیر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے جمہوری حقوق کی بحالی، آئینی اصولوں کا احترام اور بامعنی سیاسی مذاکرات ضروری ہیں۔