وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد بڑھائیں، چیف جسٹس

پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقی اصولوں کی پابندی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔

October 27, 2026 · قومی
وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد بڑھائیں، چیف جسٹس

وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد بڑھائیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ وکلاء نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقی اصولوں کی پابندی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔

سپریم کورٹ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 51 وکلاء کے وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔ وفد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مسلسل قانونی تعلیم کے تربیتی پروگرام میں شرکت کے لیے اسلام آباد آیا تھا۔ بلوچستان بار کونسل نے صوبے کی مختلف بار ایسوسی ایشنز سے تعلق رکھنے والے وکلاء کو اس پروگرام کے لیے نامزد کیا تھا، جن میں کوئٹہ، تربت، خضدار، پشین، ژوب، چمن، قلات اور سبی سمیت دیگر علاقوں کے نمائندے شامل تھے۔

چیف جسٹس نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مسلسل قانونی تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وکلاء تربیت کے دوران حاصل ہونے والے علم کو اپنی عملی قانونی پریکٹس میں استعمال کریں اور اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تربیتی پروگرام میں شریک وکلاء فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اور پاکستان کی عدلیہ کے نمائندے ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ اپنے علم اور تجربے کو دوسرے وکلاء تک بھی منتقل کریں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وفد کو ملک بھر میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انصاف تک رسائی کے ترقیاتی فنڈ کے تحت عدالتی عمارتوں اور بار رومز میں بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں شمسی توانائی کے نظام، انٹرنیٹ سے منسلک برقی کتب خانے اور پینے کے صاف پانی کی سہولت شامل ہیں۔ خواتین کے لیے مخصوص سہولیات کی فراہمی بھی ان اقدامات کا حصہ ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق عدالتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے بیشتر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، تاہم تکنیکی مسائل کے باعث چھ عدالتی کمپلیکسز میں کام باقی ہے۔ انہوں نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ دستیاب جدید سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے آن لائن تربیتی پروگراموں میں بھی حصہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں بھی عدالتوں کا فعال رہنا اور انصاف کی فراہمی جاری رکھنا عدالتی اداروں کی مضبوطی کی علامت ہے۔ چیف جسٹس نے قانون کی حکمرانی کے لیے عدالتی افسران اور وکلاء کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل تربیت، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔