علما و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین کا مشترکہ اجلاس، خودکش حملوں اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ
خودکش حملے حرام، بے گناہ انسانوں کا قتل ناجائز اور دہشت گردی اسلام سمیت تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے ،اعلامیہ
جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین کا اہم مشترکہ اجلاس
کوئتہ: چیئرمین پاکستان علماء کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی زیرِ صدارت قومی پیغامِ امن کمیٹی اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین کا اہم مشترکہ اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔
اجلاس میں مولانا علی محمد ابو تراب، ڈاکٹر آصف میر، مفتی یوسف کشمیری، مولانا سید سمیع اللہ آغا، مولانا قاسم حقانی، علامہ نصر اللہ حسینی، مفتی محمد جان قاسمی، مولانا حزب اللہ عثمانی، مولانا سمیع اللہ اعوان، مولانا عبدالرحمن، مولانا عبداللہ حقانی، مفتی عمر فاروق، مولانا عبدالرحمان سلفی، پاسٹر سائمن بشیر، سردار جسبیر سنگھ اور دیگر علماء و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین شریک ہوئے۔
اجلاس کے متفقہ اعلامیے میں خودکش حملوں، دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کے خلاف متفقہ فتویٰ کی توثیق کرتے ہوئے پیغامِ پاکستان کے قومی بیانیے کی مکمل تائید کی گئی۔
متفقہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خودکش حملے حرام، بے گناہ انسانوں کا قتل ناجائز اور دہشت گردی اسلام سمیت تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔ کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو مذہب، مسلک یا کسی نظریے کے نام پر قتل و غارت گری، ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں یا قانون کو ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں۔
متفقہ اعلامیے میں معصوم خواتین، بچوں، نوجوانوں اور طلبہ و طالبات کو دہشت گردی اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عمل شرعاً حرام، اخلاقاً قابلِ مذمت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔
نوجوان نسل کو گمراہ کر کے دہشت گردی کا ایندھن بنانے والے عناصر انسانی جانوں اور پاکستان کے مستقبل کے دشمن ہیں۔متفقہ اعلامیے میں کہا گیا کہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے خلاف افواجِ پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کی جدوجہد کی مکمل تائید و حمایت کی جاتی ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خاتمے، ملکی سلامتی اور قومی استحکام کے لیے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔
متفقہ اعلامیے میں کہا گیا کہ بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے اور بلوچستان میں امن و استحکام کا قیام اولین ترجیح ہے۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف متحد ہیں۔ کسی کو مذہب یا مسلک کی آڑ میں پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
متفقہ اعلامیے میں بلوچستان میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری، قومی یکجہتی اور قیامِ امن کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے، مساجد و مدارس کو درپیش مسائل کے حل اور حکومت و متعلقہ اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ نوجوان نسل کو انتہا پسندانہ نظریات، نفرت انگیز پروپیگنڈے اور دہشت گرد تنظیموں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے علماء و مشائخ، مذہبی قائدین، اساتذہ اور سماجی شخصیات مشترکہ کردار ادا کریں گی۔ مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور مذہبی و سماجی مراکز کے ذریعے امن، رواداری، اتحاد اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کیا جائے گا۔
متفقہ اعلامیے میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین نے نوجوانوں، طلبہ و طالبات سے اپیل کی کہ وہ دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کے گمراہ کن نعروں، جھوٹے وعدوں اور منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور کسی صورت ایسے عناصر کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔اعلامیے میں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں، صحبت اور سوشل میڈیا رابطوں کے حوالے سے محتاط رہیں، ان کے ساتھ اعتماد اور محبت پر مبنی تعلق برقرار رکھیں اور انہیں دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم سے محفوظ رکھنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔
متفقہ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی، انسانی جان کا احترام، دہشت گردی کا خاتمہ اور قومی یکجہتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہماری نوجوان نسل ہمارا مستقبل ہے، اسے دہشت گردی کا ایندھن نہیں بننے دیا جائے گا۔اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمِ اسلام کے اتحاد، وحدتِ امت، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے کوششوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ متفقہ قرارداد میں پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ قومی مفاد، عالمِ اسلام کے اتحاد اور عالمی امن کے لیے کی جانے والی مثبت سفارتی کوششوں کی تائید و حمایت کریں۔
قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں امن و استحکام، عالمِ اسلام کے اتحاد، مسلم ممالک کے درمیان مفاہمت اور عالمی امن کے لیے ہر مثبت اور تعمیری کوشش کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔