قطر کی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت اور فنڈنگ کے الزامات کی تردید

ماجد الانصاری کا مؤقف، اسرائیلی سیاست دان اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار قطر کو نہ ٹھہرائیں

October 29, 2026 · بام دنیا

قطر وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری پریس کانفرنس کرتے ہوئے: فائل فوٹو رائٹرز

قطر نے اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں مداخلت کرنے اور انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی سیاست دانوں اور ان سے وابستہ بعض ذرائع ابلاغ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات دوحہ کی سفارتی اور انسانی ہمدردی کی کوششوں کو متاثر نہیں کر سکتے۔

یہ تنازع اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جج نوم سولبرگ نے غیر ملکی مالی معاونت کے ذریعے انتخابی عمل پر مبینہ اثراندازی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے داخلی سلامتی کے ادارے شِن بیت کو ہدایت دی ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں اس امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ قطر سے مبینہ طور پر رقوم فراہم کرکے عرب اسرائیلی ووٹروں کی انتخابی شرکت یا ووٹنگ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ تاہم انتخابی کمیٹی کے سربراہ نے اپنے خط میں قطر کا نام براہ راست نہیں لیا اور کہا کہ الزامات کی حقیقت کی تصدیق یا تردید کے لیے شواہد جمع کرنا ضروری ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد محمد الانصاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بعض اسرائیلی سیاست دانوں اور ان سے رابطوں میں رہنے والے ذرائع ابلاغ نے انتخابات کے بعد ایک بار پھر قطر کو اسرائیل کے داخلی سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کے لیے گمراہ کن مہم شروع کر رکھی ہے۔

ماجد الانصاری کے مطابق قطر پر کبھی بینجمن نیتن یاہو، کبھی اسرائیلی بائیں بازو اور اب عرب ووٹروں کو خریدنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ان الزامات کو درست مان لیا جائے تو بظاہر قطر اسرائیل کے تمام معاملات کا مالک بن چکا ہے۔

قطری ترجمان نے ان الزامات کو بیک وقت مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اسرائیلی سیاسی اور ذرائع ابلاغ کی شخصیات کی جانب سے انتخابی بیانات میں بار بار قطر کا نام لینا ان کی ملک کے بارے میں غیر معمولی حد تک توجہ ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سیاست دانوں کو اپنی سیاسی ناکامیوں کا ذمہ دار قطر کو ٹھہرانے کے بجائے اپنے ووٹروں کے مسائل حل کرنے، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور خطے میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ قطر کا اسرائیل کے داخلی سیاسی یا انتخابی مقابلے میں کوئی کردار نہیں اور دوحہ ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ قطر اپنے نام کو انتخابی مقاصد یا محدود سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش قبول نہیں کرے گا۔

فلسطین کے مسئلے پر قطر کا مؤقف

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل میں انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی کسی بھی حکومت کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کا احترام کرنا چاہیے اور فلسطینی مسئلے پر سنجیدگی اور دیانت داری سے پیش رفت کرنی چاہیے۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
ماجد الانصاری کے مطابق انتخابی الزامات قطر کو اس کے سفارتی اور انسانی ہمدردی کے مشن سے نہیں ہٹا سکتے۔ دوحہ فلسطینی عوام کی حمایت، تنازعات کے حل کے لیے ثالثی اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

قطری ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک سفارت کاری کے ذریعے جاری تنازعات کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا اور قطر کے نام کو انتخابی مہمات یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے پر خاموش نہیں رہے گا۔

عرب جماعتوں کی نشستیں کیوں اہم ہیں؟

اسرائیلی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے حمایت یافتہ سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ دوسری جانب عرب جماعتوں کی مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرنے کی توقع ظاہر کی گئی، جس سے حکومت سازی کے عمل میں ان جماعتوں کی سیاسی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مکمل تحقیقات کی حمایت کی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غیر مصدقہ الزامات کو انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسرائیلی پولیس نے وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کی حمایت میں شواہد نہ ہونے کی نشاندہی بھی کی ہے۔