رواں مالی سال انکم ٹیکس گوشواروں سے ایف بی آر کو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس وصول

29 اکتوبر تک 73 لاکھ گوشواروں سے 85 ارب روپے موصول، یکم نومبر سے تاخیر پر بھاری جرمانے نافذ ہوں گے

October 29, 2026 · قومی

بجٹ میں بھی 729 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اسلام آباد: رواں مالی سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس وصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ 29 اکتوبر تک ایف بی آر کو 73 لاکھ سے زائد انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے، جن کے ساتھ 85 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی تاریخ تک 86 لاکھ گوشواروں سے 88 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد ٹیکس وصول ہوا تھا۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق 29 اکتوبر کی شام تک مجموعی طور پر ساڑھے 73 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوچکے تھے۔ گزشتہ سال 29 اکتوبر تک 60 لاکھ گوشوارے جمع ہوئے تھے، اس طرح رواں سال گوشواروں کی تعداد میں ساڑھے 13 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ساڑھے 73 لاکھ گوشوارے موصول ہوچکے ہیں اور توقع ہے کہ اگلے دو روز میں جمع کرائے گئے گوشواروں کی تعداد 80 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تاخیر سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے پر جرمانوں کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے ٹیکس دہندگان جرمانوں سے بچنے کے لیے مقررہ تاریخ سے پہلے گوشوارے جمع کرا رہے ہیں، تاہم ان میں قابلِ ٹیکس آمدنی کم ظاہر کیے جانے کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اس بار صفر ٹیکس کے ساتھ جمع کرائے جانے والے انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں لوگ ایک ہزار روپے کا چالان جمع کرا کر ایکٹو ٹیکس پیئر بننے کے لیے مقررہ تاریخ کے بعد بھی گوشوارے جمع کروا دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 86 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم رواں سال جرمانوں کی شرح زیادہ ہونے کے باعث لوگ مقررہ تاریخ سے پہلے گوشوارے جمع کرا رہے ہیں، لیکن آمدنی کم ظاہر کرنے کا معاملہ بھی سامنے آ رہا ہے۔

ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو خبردار کیا ہے کہ یکم نومبر سے بھاری جرمانوں کا اطلاق ہوگا۔ ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

یکم نومبر سے انفرادی گوشوارہ مقررہ وقت پر جمع نہ کرانے پر جرمانہ ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے تک کردیا جائے گا۔ لیٹ فائلر ایسوسی ایشن آف پرسنز پر جرمانہ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے، جبکہ لیٹ فائلر کمپنی پر جرمانہ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردیا جائے گا۔

دوسری جانب تاجر برادری کے لیے بھی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں رجسٹریشن کے لیے 31 اکتوبر کو آخری موقع قرار دیا گیا ہے۔ آسان ٹیکس اسکیم کے تحت ریٹرن جمع کرانے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد بھی بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ مقررہ تاریخ کے بعد پہلے مہینے میں 10 ہزار روپے، دوسرے مہینے میں 25 ہزار روپے اور تیسرے مہینے میں 50 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔