سپریم کورٹ بار الیکشن ہارنے پر کیپٹن صفدر عاصمہ جہانگیر کیخلاف سخت زبان استعمال کرنے لگے

آج میں ایک الیکشن ہار کر آ رہا ہوں، وہ الیکشن کیا تھا ؟ وہ سپریم کورٹ بار کی صدارت کا ایک چھوٹا سا الیکشن تھا

October 30, 2026 · قومی
سپریم کورٹ بار الیکشن ہارنے پر کیپٹن صفدر عاصمہ جہانگیر کیخلاف سخت زبان استعمال کرنے لگے

سپریم کورٹ بار الیکشن ہارنے پر کیپٹن صفدر عاصمہ جہانگیر کیخلاف سخت زبان استعمال کرنے لگے

اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں شکست کے بعد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی مرحومہ انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے پر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ سابق رکن قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ان کے بیان کو قابلِ مذمت قرار دے دیا۔

کیپٹن صفدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ آج میں ایک الیکشن ہار کر آ رہا ہوں، وہ الیکشن کیا تھا ؟ وہ سپریم کورٹ بار کی صدارت کا ایک چھوٹا سا الیکشن تھا ، مگر میرے لیے ایک بہت بڑا الیکشن تھا کیونکہ میں ایک ملعونہ عاصمہ جہانگیر کی باقیات کے خلاف الیکشن لڑ رہا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مذہبی اور آئینی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے قادیانیوں سے متعلق قوانین اور پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اپنی قرارداد کا بھی ذکر کیا۔

کیپٹن صفدر کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے ایکس پر لکھا کہ عاصمہ جہانگیر کے خلاف اس نوعیت کی تقریر کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

فواد چوہدری نے مریم نواز کو بھی طنزیہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کیپٹن صفدر کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک سے متعلق تبصرہ کیا اور کہا کہ ان کے لیے بھی گھر پر ایسی ہی تقریب کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو ہونے والے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار سید امجد علی شاہ نے پروفیشنل گروپ کے سردار امان اللہ خان کو شکست دی تھی۔ انڈیپنڈنٹ گروپ کی اس کامیابی کو گروپ کی مسلسل چوتھی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سینئر وکیل احسن بھون نے اس سے قبل کیپٹن صفدر کو مبینہ طور پر ان کی ڈگری سے متعلق الزامات پر پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوایا تھا۔ نوٹس میں الزامات واپس لینے اور عوامی معافی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔