’’ہوش کے ناخن لیں، جو کڑی ملا رہے ہیں وہ درست نہیں‘‘ثمر بلور کا مولانا فضل الرحمان کو مشورہ

مولانا فضل الرحمان کا احترام کرتی ہیں، تاہم ان کے بیانات اور رویے میں پائے جانے والا غصہ سمجھ سے بالاتر ہے

October 30, 2026 · قومی
’’ہوش کے ناخن لیں، جو کڑی ملا رہے ہیں وہ درست نہیں‘‘ثمر بلور کا مولانا فضل الرحمان کو مشورہ

’’ہوش کے ناخن لیں، جو کڑی ملا رہے ہیں وہ درست نہیں‘‘ثمر بلور کا مولانا فضل الرحمان کو مشورہ

پشاور: خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل کی رکن اور مشیر اطلاعات ثمر بلور نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں، کیونکہ وہ جن معاملات کو آپس میں جوڑ رہے ہیں، ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثمر بلور کا کہنا تھا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کا احترام کرتی ہیں، تاہم ان کے بیانات اور رویے میں پائے جانے والا غصہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق مولانا کی ناراضی کی وجہ یہ ہے کہ اب ان سے ملاقاتیں اور مشاورت نہیں کی جا رہی۔

ثمر بلور نے مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کو صوبے کی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت بھی دی۔

مشیر اطلاعات نے سہیل آفریدی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاحال محفوظ تحویل میں ہیں، تاہم انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ پشاور میں ہیں یا کسی دوسری جگہ۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے سہیل آفریدی پر مختلف منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مختلف اضلاع میں غیر قانونی ٹھیکے دیے گئے اور سہیل آفریدی کے بھائی اور کزن بھی بعض منصوبوں میں مبینہ کرپشن میں ملوث رہے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان سمیت دیگر معاملات کا بھی ذکر کیا۔

ثمر بلور نے سانحہ دیر کالونی کے حوالے سے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے اور انکوائری رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں اور مدارس کی عمارتوں کی مرمت کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم بچوں کی تعلیم متاثر ہونے سے بچانے کے لیے تعمیر و مرمت کا کام فری پیریڈز کے دوران کیا جائے گا۔

صحت کارڈ سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کو بند یا منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، البتہ اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کی انتظامیہ اور متعلقہ بورڈز میں شامل افراد کی کارکردگی کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔