خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس میں ادویات کی مہنگے داموں خریداری کا انکشاف

سرکاری نظام میں 70 فیصد رعایت ممکن، صحت کارڈ کے اسپتالوں میں صرف 15 فیصد رعایت پر خریداری کا انکشاف

October 30, 2026 · قومی

خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات کی مہنگے داموں خریداری کا انکشاف، سرکاری نظام میں 70 فیصد رعایت کے امکان کے باوجود اسپتالوں میں صرف 15 فیصد رعایت حاصل کی گئی۔

پشاور: خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان کی مہنگے داموں خریداری کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں سرکاری نظام کے تحت 70 فیصد تک رعایت ممکن ہونے کے باوجود صحت کارڈ سے منسلک اسپتالوں میں صرف 15 فیصد رعایت پر ادویات خریدی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں صحت کارڈ پلس کے خریداری نظام میں سنگین مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے پر بھاری مالی بوجھ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری نظام میں ادویات کی خریداری پر 70 فیصد تک رعایت حاصل کرنے کا امکان موجود ہے، جبکہ صحت کارڈ کے اسپتالوں میں محض 15 فیصد رعایت پر ادویات خریدنے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس سے منسلک اسپتالوں کی جانب سے مرکزی خریداری نظام کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ سرکاری سطح پر کم قیمتوں پر ادویات خریدنے کا نظام موجود ہے۔ اس کے باوجود صحت کارڈ کے تحت مقامی سپلائرز سے مہنگے داموں خریداری کی نشاندہی ہوئی ہے۔

دستاویز کے مطابق صحت کارڈ پلس کے مجموعی طبی اخراجات کا 40 سے 45 فیصد حصہ ادویات، طبی آلات اور دیگر سامان کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس میں الگ الگ خریداری کے طریقہ کار کے باعث سرکاری خزانے کو غیر ضروری مالی نقصان پہنچا، جبکہ ادویات کی خریداری میں قیمتوں، معیار اور شفافیت کی نگرانی پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صحت کارڈ پلس میں ادویات کی خریداری کا ڈیجیٹل اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے، جبکہ خریداری کے موجودہ نظام کو فوری طور پر سرکاری مرکزی خریداری نظام سے منسلک کیا جائے۔