پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کا گورنر راج کیخلاف ہر آئینی و قانونی فورم پر جدوجہد کا فیصلہ

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں مبینہ سیاسی انتقامی اقدامات فوری بند کرنے کا مطالبہ

October 30, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اہم سیاسی و آئینی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اجلاس کے اعلامیے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں مبینہ سیاسی انتقامی اقدامات فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور ایم پی او کے تحت نظر بندیوں کی مذمت کی گئی جبکہ پارٹی کے پرچم اتارنے اور ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں ہٹانے کے اقدامات کو بھی ناقابل قبول قرار دیا گیا۔

پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مستند معلومات فراہم کی جائیں اور اہل خانہ و وکلا کو فوری رسائی دی جائے، بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کو فوری انصاف، ان کی بہنوں کی رہائی اور اہل خانہ کو تمام قانونی، انسانی اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، سپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر منتخب نمائندوں کی مبینہ غیر آئینی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور انتظامی اختیارات کی منتقلی پر شدید تحفظات ہیں، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے عمل کو رول بیک کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی، اس سلسلے میں قبائلی مشران اور سیاسی جماعتوں کو مدعو کرکے مشترکہ جرگہ بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

پارلیمانی پارٹی نے بیرسٹر گوہر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں، پارٹی کے تمام سیاسی و تنظیمی فیصلے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات اور باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔

اجلاس میں احتجاجی تحریک اور مذاکرات سمیت آئندہ سیاسی حکمت عملی میں خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کو مؤثر نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں کو تسلیم کرنے اور ان کا احترام کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔

اعلامیے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کرنے، عوامی حقوق کے تحفظ، آئین کی بالادستی، جمہوری نظام کی بحالی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔