کورکمانڈر کے سامنے تجاوزات کی نشاندہی پر انتقامی کارروائیاں شروع ہوگئیں، مولانا اسجد محمود

سی ڈی اے نوٹس پر مولانا اسجد محمود کا مؤقف،اداروں کو ذاتی انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال کرنے کا الزام

October 30, 2026 · قومی

مولانا اسجد محمود کا سی ڈی اے نوٹس پر ردعمل، تجاوزات کی نشاندہی کے بعد انتقامی کارروائیوں کا الزام۔

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسجد محمود نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر تجاوزات کے حوالے سے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پشاور میں کور کمانڈر کے سامنے تجاوزات کی نشاندہی کرنے پر انتقامی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔

مولانا اسجد محمود نے کہا کہ پشاور میں کور کمانڈر کے سامنے تجاوزات کی نشاندہی کی گئی تو انتقامی کارروائیاں شروع کردی گئیں، جب نشاندہی کا کوئی جواب نہ ملا تو مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی گارڈ کا کیبن ہٹانے، جنریٹر منتقل کرنے اور اضافی کچن کی تعمیر پر بھی اعتراضات کیے گئے ہیں۔

مولانا اسجد محمود کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام ادارے ایک شخص کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ سیاسی اختلافات کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنا قابل تشویش ہے۔

انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حالات سے باخبر اور بیدار رہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سی ڈی اے نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کی نشاندہی کرتے ہوئے نوٹس چسپاں کیا تھا۔

سی ڈی اے کے نوٹس میں سیکیورٹی گارڈز کے کیبن اور جنریٹر کو ادارے کی اراضی پر قائم قرار دیا گیا تھا، جبکہ گھر میں سیٹ بیکس پر غیرقانونی تعمیرات ختم کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دی گئی تھی۔

سی ڈی اے نے خبردار کیا تھا کہ مقررہ مدت میں تجاوزات ختم نہ کرنے پر عمارت سیل کرنے یا غیرقانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔

اتھارٹی نے امان اللہ محمد یونس کو عمارت کے مالک کی حیثیت سے نوٹس جاری کیا تھا۔ سی ڈی اے کے مطابق 18 مارچ 2019 کو بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔