بائننس پر تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ، 6.3 ارب ڈالر چوری
سکیورٹی نقب زنی، 90 فیصد رقم بحال، تحقیقات جاری
بائننس کرپٹو ایکسچینج پر ہونے والے تاریخی سائبر حملے کے بعد سکیورٹی اور فنڈز کی بحالی کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کو تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں ہیکرز 6.3 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے لے اڑے۔ عالمی میڈیا اور بلاک چین تجزیاتی کمپنیوں کے مطابق اس واقعے کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی مالی ڈکیتی قرار دیا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیچیدہ سائبر حملہ بائننس کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہونے کے باعث پیش آیا، جس کے ذریعے حملہ آوروں نے کمپنی کے سسٹم تک رسائی حاصل کی۔ ہیکرز نے انٹرنیٹ سے منسلک ہاٹ والٹس کو نشانہ بناتے ہوئے محض 15 منٹ کے اندر 8 مختلف بلاک چین نیٹ ورکس کے ذریعے اربوں ڈالر کے اثاثے منتقل کیے۔
رپورٹس کے مطابق بائننس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے بتایا کہ حملہ آوروں نے نقصان دہ سافٹ ویئر کا استعمال کیا جو مسلسل شواہد مٹاتا رہا، جس سے تحقیقات میں مشکلات پیش آئیں۔ ابتدائی انٹیلی جنس اور تجزیاتی فرمز کے مطابق اس حملے کے پیچھے شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حملے کے فوری بعد کرپٹو انڈسٹری نے مشترکہ ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنیوں کے تعاون سے تقریباً 3 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے منجمد کردیے تاکہ ہیکرز انہیں کیش نہ کرا سکیں۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر بائننس نے عارضی طور پر تمام ڈیپازٹس اور رقم نکلوانے کے عمل کو معطل کر دیا تھا۔
بائننس کی قیادت، بشمول بانی چانگ پینگ ژاؤ اور شریک بانی یی ہی نے سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ صارفین کے فنڈز مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ نقصانات کی تلافی کے لیے اندرونی فنڈز سے 6.34 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں جبکہ سکیور ایسٹ فنڈ فار یوزرز سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔ بائننس حکام کے مطابق متاثرہ سروسز کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔