سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر پتلو کی شادی پر بھگدڑ سے ایک ہلاک، 13 زخمی
ٹک ٹاکر نے انعامات کا لالچ دے کر لوگوں کو شادی پر جمع کیا تھا، ہجوم سنبھالنے کے انتظامات ناکافی نکلے
سیالکوٹ میں معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران انعامات کی تقسیم پر جمع ہونے والے ہجوم میں شدید بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 13 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسٹر پتلو کی جانب سے اپنی شادی کے جشن میں آنے والے مہمانوں اور مداحوں کے لیے کاریں، موٹر سائیکلیں اور نقد رقم بطور انعام دینے کا بڑا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد انعامات کے حصول اور لکی ڈرا میں شامل ہونے کے لیے دور و دراز سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اور غریب طبقے کے لوگ سیالکوٹ کے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع ان کے فارم ہاؤس کے باہر جمع ہو گئے۔
بے قابو ہجوم کو سنبھالنے کے لیے انتظامات ناکافی ثابت ہوئے اور دھکم پیل کے باعث لوگ ایک دوسرے کے اوپر گر پڑے جس سے متعدد افراد بے ہوش ہوئے اور درجن بھر سے زائد شدید زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک شہری دم توڑ گیا۔ اس تقریب کو سوشل میڈیا پر پاکستان کی سب سے بڑی شادیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا تھا جس میں مسٹر پتلو نے 20 یتیم بچیوں کی اجتماعی شادیاں کرانے کا خیراتی عزم بھی ظاہر کیا تھا۔
اس ہنگامہ خیز شہرت کے مرکز میں موجود مسٹر پتلو کا اصل نام انصر جٹ ہے جن کا تعلق پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے ہے۔ وہ پاکستان کے ان چند سوشل میڈیا انفلوئنسرز میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے انتہائی مختصر وقت میں ٹک ٹاک لائیو اسٹریمنگ اور گیمنگ ویڈیوز کے ذریعے بے پناہ مقبولیت اور دولت حاصل کی۔ مسٹر پتلو کا پس منظر کسی بڑے یا امیر گھرانے سے نہیں ہے بلکہ انہوں نے ایک عام نوجوان کی حیثیت سے سوشل میڈیا پر سفر شروع کیا۔
ان کی خاص بات ان کا خالص دیسی انداز، روانی سے پنجابی بولنا اور انگریزی زبان نہ آنے کے باوجود پرعتماد طریقے سے لائیو شوز کرنا بنی، جسے عوام نے بے حد پسند کیا۔ ٹک ٹاک لائیو میچز اور تحائف (Gifts) کی بدولت ان کا شمار پاکستان کے سب سے زیادہ کمانے والے ٹک ٹاکرز میں ہونے لگا اور وہ غیر ملکی لائیو اسٹریمنگ ایپس کے برانڈ ایمبیسیڈر بھی بنے۔
تاہم، ان کی شادی پر ہونے والے اس ہنگامے اور جانی نقصان نے اس وقت سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں لوگ ملکی غربت اور ایسے عوامی اجتماعات میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں