بعض حلقوں کی زبان پر اعتراض ہے ، موقع ملا تو آرمی چیف سے شکایت کروں گا ، مولانا فضل الرحمٰن
قبائلی علاقوں کو ایک بار پھر ’تجربہ گاہ‘ بنایا جا رہا ہے ،سابقہ حیثیت بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ،ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب
فائل فوٹو
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیر کو فاٹا کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی علاقوں کی صورتحال، معدنی وسائل، گورنر راج، ایمرجنسی اور سرمایہ کاری سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان قابلِ تشویش ہے اور یہ سب کچھ ان کے بقول آرمی چیف کی موجودگی میں ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کھل کر آرمی چیف سے شکایت کرتے ہیں اور اگر دوبارہ ملاقات کا موقع ملا تو یہ معاملہ ان کے سامنے بھی اٹھائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ جو ان کے ترجمان ایسی زبان بولتے ہیں، یہ ان کی اپنی زبان نہیں بلکہ انھیں کہیں اور سے سکھائی اور دلوائی جاتی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو ایک بار پھر ’تجربہ گاہ‘ بنایا جا رہا ہے اور انھیں اعلیٰ حکومتی شخصیات نے یہ بتایا ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو غلط فیصلہ سمجھا جاتا ہے اور اسے ختم کرکے سابقہ حیثیت بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انضمام کے تقریباً ایک دہائی بعد بھی فاٹا میں مؤثر انتظامی و قانونی نظام قائم نہیں ہو سکا۔
انھوں نے کہا کہ آج فاٹا کا اصل مسئلہ سیاسی یا آئینی نہیں بلکہ معدنی وسائل اور معاشی مفادات کا ہے۔ ان کے مطابق قبائلی علاقوں میں موجود معدنی ذخائر پر قبضے اور ان کے استعمال کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ سی پیک اور چینی سرمایہ کاری کو نظرانداز کرکے امریکہ کو معدنی شعبے میں زیادہ مواقع دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں پیدا ہونے سے دوسرے غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان سے بدظن ہو سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر یہ اقدامات کیے گئے، تاہم بعد میں تمام توجہ معدنی ذخائر کے معاملات پر مرکوز ہو گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض اضلاع کو سکیورٹی نہیں بلکہ وسائل اور تجارتی راستوں کی وجہ سے خصوصی انتظامی اقدامات کے دائرے میں لایا گیا۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ معدنی وسائل سے متعلق تمام معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں اور واضح کیا جائے کہ وفاق، غیر ملکی کمپنیوں اور مقامی آبادی کا حصہ کیا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کو پہلے سیاسی حقوق اور اب معاشی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر سیاسی مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا، کردار کشی اور دباؤ ڈالنے کا الزام بھی لگایا۔ انھوں نے کہا کہ اختلافی آرا کا جواب دلائل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ الزامات اور مہمات کے ذریعے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انھوں نے زور دیا کہ جے یو آئی آئینی، جمہوری اور پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور قومی وسائل، آئین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وسائل سے متعلق معاہدوں میں شفافیت اور مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔