کراچی: ڈکیتی میں مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد نشانہ ، نوجوان جاں بحق

پلاستر کا کام کرنے والے محنت کش والد اپنے بچوں اور بھتیجے کے ہمراہ جا رہے تھے کہ راستے میں ڈاکوئوں نے گھر لیا، مزاحت پر گولی چلادی

November 3, 2026 · قومی
لاش اسپتال میں رکھی ہے

لاش اسپتال میں رکھی ہے

کراچی: شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور بے لگام ڈاکوؤں نے ایک بار پھر ایک ہنستے کھیلتے خاندان کو اجاڑ دیا۔

سرجانی سیکٹر 36 سائرہ بی بی گوٹھ پولیس چوکی کے قریب رکشے میں سوار محنت کش خاندان پر ڈاکوئوں نے فائرنگ کردی ، ڈکیتی میں مزاحمت پر 22 سالہ نوجوان جاں بحق ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق پلاستر کا کام کرنے والے محنت کش والد اپنے بچوں اور بھتیجے کے ہمراہ جا رہے تھے کہ راستے میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح ڈاکوؤں نے رکشے کو گھیر لیا اور اسلحے کے زور پر لوٹ مار کی کوشش کی۔

مزاحمت پر سنگدل ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں باپ اور بیٹوں کے سامنے ان کا 22 سالہ بھتیجا 22 سالہ محمد خلیل ولد محمد افضل خان گولی لگنے سے موقع پر ہی شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ محنت مزدوری کر کے اپنے اہلخانہ کا پیٹ پال رہے تھے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی اور ڈاکوؤں کی بے خوفی نے ان کے گھر کا چراغ گل کر دیا۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے، تاہم مقتول کے گھر میں کوہلیت اور سوگ کا عالم ہے جبکہ شہریوں نے آئی جی سندھ اور اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لے کر قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔