امریکی انتخابات میں پہلی بار کسی پوپ نے ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کردی

امریکی شہری ہونے کی حیثیت سے وسط مدتی انتخابات کے لیے ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

November 4, 2026 · بام دنیا
امریکی انتخابات میں پہلی بار کسی پوپ نے ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کردی

امریکی انتخابات میں پہلی بار کسی پوپ نے ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کردی

واشنگٹن: کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو چہاردہم امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔ انہوں نے امریکی شہری ہونے کی حیثیت سے وسط مدتی انتخابات کے لیے ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ویٹی کن نے تصدیق کی ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم نے شکاگو میں اپنا ووٹ ڈالا۔ ان کا اصل نام رابرٹ پریوسٹ ہے اور وہ شکاگو میں پیدا ہوئے تھے۔

ویٹی کن کے ترجمان کے مطابق پوپ لیو نے امریکی شہری ہونے کے ناطے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ وہ ماضی میں بھی انتخابی عمل میں حصہ لیتے رہے ہیں، حتیٰ کہ پیرو میں قیام کے دوران بھی ووٹ ڈال چکے ہیں، جہاں انہوں نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مذہبی خدمات انجام دیں۔

ویٹی کن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ لیو جمہوری عمل میں شہریوں کی شرکت کو اہم سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک ووٹ ڈالنا صرف حق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔

واضح رہے کہ پوپ لیو چہاردہم کے پاس امریکا اور پیرو دونوں ممالک کی شہریت ہے، جبکہ وہ ویٹی کن سٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ ویٹی کن میں بادشاہت کا نظام رائج ہے، اس لیے وہاں سیاسی انتخابات منعقد نہیں ہوتے۔

امریکی قانون کے مطابق بیرون ملک مقیم امریکی شہری ڈاک یا غیر حاضر ووٹ کے ذریعے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کسی دوسرے ملک یا ریاست کا سربراہ ہونے کی صورت میں بھی امریکی شہریت خودبخود ختم نہیں ہوتی۔