اندرونِ ملک فضائی سفر میں فلائی جناح پہلی پوزیشن پر آگئی
پاکستان میں مجموعی طور پر 37 ملکی اور غیر ملکی فضائی کمپنیاں خدمات فراہم کر رہی ہیں، جن میں 5 پاکستانی اور 32 غیر ملکی ایئرلائنز شامل ہیں
اندرونِ ملک فضائی سفر میں فلائی جناح پہلی پوزیشن پر آگئی
پاکستان کی اندرونِ ملک فضائی سفری مارکیٹ میں فلائی جناح نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے، جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز دوسرے اور ایئر بلیو تیسرے نمبر پر رہی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مالی سال 2024-25 کے اعدادوشمار کے مطابق فلائی جناح نے ایک سال کے دوران اندرونِ ملک 19 لاکھ 67 ہزار مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی۔ اس فہرست میں پی آئی اے کے ذریعے 18 لاکھ 51 ہزار جبکہ ایئر بلیو کے ذریعے 10 لاکھ 4 ہزار مسافروں نے سفر کیا۔ ایئر سیال نے 8 لاکھ 13 ہزار مسافروں کو اندرونِ ملک منزل تک پہنچایا۔
اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 37 ملکی اور غیر ملکی فضائی کمپنیاں خدمات فراہم کر رہی ہیں، جن میں 5 پاکستانی اور 32 غیر ملکی ایئرلائنز شامل ہیں۔ ملکی کمپنیوں میں فلائی جناح، پی آئی اے، ایئر بلیو، ایئر سیال اور ساؤتھ ایئر شامل ہیں، جبکہ سرین ایئر اکتوبر 2025 سے اپنی پروازیں بند کر چکی ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی فضائی سفر کے شعبے میں امارات ایئرلائنز پاکستان میں سب سے زیادہ پروازیں چلا رہی ہے۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق یہ کمپنی پاکستان سے ہفتہ وار 39 پروازیں آپریٹ کرتی ہے، جبکہ سعودی ایئرلائنز 30 اور اتحاد ایئرلائنز 23 ہفتہ وار پروازیں چلاتی ہیں۔ قطر ایئرویز کی ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 28 بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امارات ایئرلائنز کراچی سے روزانہ 7 پروازیں بھی چلاتی ہے۔ پاکستان سے بین الاقوامی فضائی سفر کرنے والے مسافروں کی سالانہ تعداد ڈیڑھ کروڑ سے ایک کروڑ 60 لاکھ کے درمیان بتائی گئی ہے، جس میں امارات ایئرلائنز کا حصہ 18 سے 20 فیصد ہے۔
اندازوں کے مطابق امارات ایئرلائنز پاکستان سے سالانہ تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے فضائی ٹکٹ فروخت کرتی ہے، جبکہ کارگو سے ہونے والی آمدن اس کے علاوہ ہے۔ قطر ایئرویز کی سالانہ آمدن 80 سے 90 کروڑ ڈالر اور سعودی ایئرلائنز کی آمدن 70 سے 75 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی گئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی بین الاقوامی فضائی سفری آمدن کا تقریباً دو تہائی حصہ غیر ملکی ایئرلائنز حاصل کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں ملکی فضائی کمپنیوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اگر ملکی ایئرلائنز کی صلاحیت اور خدمات میں اضافہ نہ کیا گیا تو بین الاقوامی فضائی سفر سے حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ بیرونِ ملک منتقل ہوتا رہے گا۔