گنے کی قیمت ساڑھے سات ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ

گنے ، گندم اور آلو کے کاشتکار کے ساتھ انتہائی بُرا سلوک ہو رہا ہے، یہ تینوں فصلیں حکومت کی غلط پالیسیوں کی نذر ہوئی ہیں۔آصف محمد کانجو

November 4, 2026 · قومی
گنے کی قیمت ساڑھے سات ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ

گنے کی قیمت ساڑھے سات ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ

لاہور( نواز طاہر) شوگر ملوں کی طرف چینی کی قیمتوں میں اضافے کی کوششں شروع کردی گئی ہیں اور اس کاعندیہ بھی ملنے لگا ہے جس میں بڑے کاشتکار اور فلور ملز مالکان بیک وقت ایک ہی اینڈے پر دکھائی دیتے ہیں اور ایسے حالات پیدا کررہے ہیں جو چینی کی قیمت میں اضافے کا موجب بنیں اس مقصد کیلئے چینی کی ایکسپورٹ کیلئے خاص طور پر راہ ہمار کی جارہی ہے جبکہ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ پاکستان میں موجود اسٹاک ایکسپورٹ کرکے بعد میں گندم اور چینی ایکسپورٹ کرکے اس کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ، ابھی حال ہی میں یہ صورتحال گندم کے عام کاشتکار اور کاروباری طبقے کے فائدے اور نقصان سے سامنے آئی ہے جس میں کاشتکار سے گندم سرکاری کم نرخ سے بھی کم قیمت پر نجی شعبے نے گندم خریدی اور اب کم و بیش دوگنا ریٹ پر فروخت کی جارہی ہے جس سے صرف عام اور چھوٹا کاشتکار متاثر ہوا ہے اور مجموعی صارفین مہنگائی کا شکار ہوئےہیں اور اس کا ذمہ دار حکومتی پالیسیوں کو قراردیا جارہا ہے یاد رہے کہ ماضی میں سراری سطح پر اسپورٹ پرائس کے ساتھ گندم کی خریدار ہو تی تھی جو ختم کردی گئی ہے اور عام کاشتکار کو پنچنے والے نقصانات پر ملک کی سب سے بڑی اسمبلی کی اکثریتی رائے بھی اس میں تبدیلی نہ کرواسکی بلکہ طاقت ور کاشتکار پارلیان بھی حکومتوں کے سامنے خامو ش ہوگئے اور ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہرارہے ہیں، جبکہ بیک وقت گندم اور گنے کی فصلوں کی کٹائی ، فروخت اور بوائی کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ اس ضمن میں کسانوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیمیں کسی یکساں موقف پر متفق اور متحد نہیں اور مختلف حلقوں کی طرف سے ان پر کاشتکاروں کے حقیقی مسائل کی نمائندگی کے بجائے سیاسی اور مخصوص سوچ کے ساتھ مسائل اجاگر کرنے سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔
پاکستان کسان اتحاد نے شوگر ملوں کا کرشنگ سیزن فوری شروع نہ ہونا گنے اور گندم کے کاشتکار کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کیلئے بھی مہلک قراردیا ہے اور زوردیا ہے کہ کرشنگ سیزن فوری شروع کیا جائے گنے کے کاشتکاروں کے ساتھ لاہور میں پریس کانفرنس میں پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کا علم ہونے کے باوجود کرشنگ سیزن فوری طور پر شروع نہیں کیا جارہا جس سے کسان کیلئے جہاں گنے کی فروخت کا مسئلہ ہے تو وہیں پر گندم کی بوائی کیلئے کھیت سے گنے کی فصل اٹھانا بھی مسئلہ ہے مگرحکومت توجہ نہیں دے رہی اس کے نتیجے میں ایک بار پھر گندم کا کاشتکار متاثر ہوگا جبکہ گندم کی بوائی کا سیزن دوہفتے پہلے شروع ہوچکا ہے اور کاشتکار کیلئے نہ کھیت دستیاب ہی نہ ہی پیداواری مداخل کیلئے سرمایہ موجود ہے اور ابھی تک فلورملوں نے ان کے گنے کی فصل کی گذشتہ سال کی ادائیگی بھی نہیں کی ، اس کی ایک وجہ ان کے پاس گنے کا بڑا اسٹاک موجود ہونا اور نئے اسٹاک کیلئے جگہ کی کمی ہے جس سے شوگر ملوں والے بھی پریشان ہیں ۔ بیک وقت شوگر ملز مالکان اور کاشتکاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے خالد کھوکر نے کہا کہ فلور ملز مالکان اور اسٹاک سے پریشان ہیں اور کاشتکار ادائیگی اور گنے کی فصل کی فروخت کیلئے کرشنگ سیزن شروع نہ ہونے پر پریشان ہیں ، کرشنگ سیزن فوری شروع ہونا چاہئے مگر حکومت کاشتکار کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دے رہی انہوں نے گنے کا ریٹ ساڑھے سات ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا، پریس کانفرنس میں موجودگنے کے بڑے کاشتکارآصف محمد کانجو نے خالد محمود کھوکھر کی تائید کرتے ہوئے گنے اور گندم کے کاشتکار کے مسائل کی تائید کی اور کہا کہ گنے ، گندم اور آلو کے کاشتکار کے ساتھ انتہائی بُرا سلوک ہو رہا ہے، یہ تینوں فصلیں حکومت کی غلط پالیسیوں کی نذر ہوئی ہیں انہوں نے پانچ سو ایکڑ گنا کاشت کیا ہے، کرشنگ سیزن شروع نہیں ہوا، نہ ہی گندم کیلئے زمین خالی ہورہی ہے نہ ہی گزشتہ سیزن کی ادائیگی فلور ملوں نے کی ہے اور پیداور مداخل بھی خریدا ایک الگ مسئلہ ہے، کاشتکارپس گیا ہے ، انہوں نے کسان کارڈ جیسی سرکاری پالیسیوں کو لولی پاپ قراردیا بعد میں ’امت‘ سے گفتگو کرتے ہوئے آصف محمود کانجو کا کہنا تھا کہ ملک صدر اور وزیراعظم گندم اور شوگر انڈسٹری کے معاملے میں نابالغ نہیں، اس کا حصہ اور تمام معاملات بہتر جاتے ہیں مگر توجہ نہیں دے رہے بلکہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے خالد کھوکھر کی تائید کرتے ہوئے چینیکے گودام خالی کرنے کیلئے کرشنگ سیزن کی خاطر چینی فوری ایکسپورٹ پر زوردیا ، چینی کی قیمت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں سوفیصد درست اعدادو شمار کا علم تو نہیں کہ چینی کی پیداواریہ لاگت اوراسٹاک میں پڑی چینی کی مقدار کیا ہے لیکن گنے کی پیداری لاگت ساڑھے چھ ہزار روپے فی من ہے ۔ ان کے مطابق بیس فیصد چینی عام صارف خردیدتا باقی چینی بیوریج انڈسٹری استعمال کرتی ہے، اس کے نرخ بڑھنے سے عام صارف پر اتنا اثر نہیں پڑتا ، اس کی قیمت میں اضافے اور ایکسپورٹ سے گنے کی قیمت کاشتکار کی ادائیگی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ دوسری جانب خالد کھوکر کا کہنا ہے کہ چینی فوریایکسپورٹ ہونا چاہئے ، لیکن یوں لگتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں چینی کے ب نرخ کم ہونے کا انتظار کیا جارہا تاکہ شوگر ملوں کو چینی پر ٹیکس ریبیٹ ملے اور جو پیسہ ملک و ملت پر خرچ ہونا ہے اس کا فائدہ بھی شوگر ملوں کو پہنچے ، کاشتکار اور عوام متاثر ہوں